کتاب: شرح حدیث ابن عباس - صفحہ 136
ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’مِنْھَا أَنَّہُ نَذْرٌ لِمَخْلُوْقٍ وَ النَّذْرُ لِلْمَخْلُوْقِ لَا یَجُوْزُ لِأَنَّہُ عِبَادَۃٌ وَالْعِبَادَۃُ لَا تَکُوْنُ لِمَخْلُوْقٍ، وَمِنْھَا أَنَّ الْمَنْذُوْرَ لَہٗ مَیِّتٌ وَالْمَیِّتُ لَا یَمْلِکُ، وَمِنْھَا أَنَّہُ إِنْ ظَنَّ أَنَّ الْمَیِّتَ یَتَصَرَّفُ فِيْ الْأُمُوْرِ دُوْنِ اللّٰہِ تَعَالٰی، وَاعْتِقَادُہٗ ذٰلِکَ کُفْرٌ‘‘[1] ’’ان میں سے ایک وجہ یہ ہے کہ یہ مخلوق کے لیے نذر ہے اور مخلوق کے لیے نذر جائز نہیں کیوں کہ نذر عبادت ہے اور عبادت مخلوق کی نہیں ہوتی، اور دوسری وجہ یہ ہے کہ جس کی نذر مانی جاتی ہے وہ میت ہے اور میت کسی چیز کی مالک نہیں ہوتی، تیسری وجہ یہ کہ نذر ماننے والا سمجھتا ہے کہ میت اللہ تعالیٰ کے علاوہ معاملات میں تصرف پر قادر ہے اور یہ اعتقاد رکھنا کفر ہے۔‘‘ گویا اولیائے کرام کا تقرب حاصل کرنے کے لیے ایسی نذر تین وجوہ سے باطل اور حرام ہے۔ اسی تقرب کے تناظر میں وہ ان سے اپنی مشکلات میں مدد طلب کرتے ہیں اور حاجت براری کے لیے انھیں پکارتے ہیں۔ اٹھتے بیٹھتے یا علی مدد، مولیٰ علی مدد، یا شیخ عبدالقادر جیلانی شیئا لله جیسے مشرکانہ کلمات کہتے ہیں۔ [1] رد المحتار (۲/ ۴۳۹).