کتاب: شرح حدیث ابن عباس - صفحہ 131
’’اے اللہ! سب تعریفیں تیرے لیے ہیں اور تیری ہی طرف شکوہ ہے، تجھ ہی سے مدد طلب کی جاتی ہے، تجھ ہی سے حاجات طلب کی جاتی ہیں اور تجھ پر بھروسہ ہے اور تیرے بغیر نہ کوئی قوت ہے نہ کوئی طاقت ہے۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک دعا کا ذکر قرآن مجید میں یوں ہے: ﴿قَالَ رَبِّ احْكُمْ بِالْحَقِّ وَرَبُّنَا الرَّحْمَنُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ ﴾[الأنبیاء: ۱۱۲] ’’اس نے کہا: اے میرے رب! حق کے ساتھ فیصلہ فرما اور ہمارا رب ہی وہ بے حد مہربان ہے جس سے ان باتوں پر مدد طلب کی جاتی ہے جو تم بیان کرتے ہو۔‘‘ ہمارے ہاں جو قراء ت ہے، وہ اسی طرح ’’قٰل‘‘ ہے اور دوسری قراء ت میں یہاں ’’قُلْ‘‘ ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس دعا کا حکم فرمایا ہے کہ آپ یہ دعا پڑھیں۔ امام قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ پہلے انبیائے کرام یوں دعا کیا کرتے تھے: ﴿رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنْتَ خَيْرُ الْفَاتِحِينَ﴾ [الأعراف: ۸۹] ’’اے ہمارے رب! ہمارے درمیان اور ہماری قوم کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کر دے اور تُو سب فیصلہ کرنے والوں سے بہتر ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعا پڑھنے کا حکم فرمایا ہے۔ زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جہاد کے لیے نکلتے تو یہ دعا پڑھتے تھے۔[1] [1] ابن کثیر (۳/ ۲۷۳).