کتاب: شرح حدیث ابن عباس - صفحہ 129
اللہ تعالیٰ سے استعانت صرف مشکلات اور حاجات ہی میں نہیں، بلکہ دین و دنیا کے تمام مصالح اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر نہیں ہو سکتے۔ یہ استعانت وسیلہ ہے، تمام عبادات کے لیے بھی اور تمام حاجات کے لیے بھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب وعظ فرماتے تو خطبے میں کہتے: (( اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ نَحْمَدُہُ وَنَسْتَعِیْنُہٗ )) [1] ’’سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں ہم اسی کی حمد کرتے ہیں اور ہم اسی سے مدد چاہتے ہیں۔‘‘ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو وصیت فرمائی کہ ہر نماز کے بعد یہ دعا کیا کرو: (( اَللّٰہُمَّ أَعِنِّيْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَ شُکْرِکَ وَ حُسْنِ عِبَادَتِکَ )) [2] ’’اے اللہ! میری مدد فرما تیرا ذکر کرنے پر، تیرا شکر اَدا کرنے پر اور تیری اچھی عبادت کرنے پر۔‘‘ گویا اللہ تعالیٰ کا ذکر و شکر اللہ کی اعانت کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ اس پر مداومت اور کماحقہ اس کی ادائیگی اللہ تعالیٰ کی اعانت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ سورۂ فاتحہ میں بھی عبادت کے بعد استعانت میں اسی طرف اشارہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں میں سے ایک دعا یہ بھی ہے: (( رَبِّ أَعِنِّيْ وَ لَا تُعِنْ عَلَيَّ، وَ انْصُرْنِيْ وَ لَا تَنْصُرْ عَلَيَّ۔۔۔ إلخ )) [3] ’’اے میرے رب! میری اِعانت فرما اور میرے خلاف کسی کی اِعانت نہ کر اور میری مدد فرما اور میرے خلاف کسی کی مدد نہ کر۔‘‘ [1] صحیح مسلم (۸۶۸). [2] أبو داود (۱۵۲۲) ابن خزیمۃ (۱/ ۳۶۹) أحمد (۵/ ۲۴۴، ۲۴۵، ۲۴۷) وغیرہ. [3] أبو داود (۱۵۱۰) ترمذي (۳۵۵۱) أحمد (۱/ ۲۲۷) وغیرہ.