کتاب: شرح حدیث ابن عباس - صفحہ 122
(( وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللّٰہِ )) ’’اور جب تم مدد طلب کرو تو اللہ سے مدد مانگو۔‘‘ اسی حکم کا اقرار و اِعتراف نمازی ہر نماز میں کرتا ہے اور عرض کرتا ہے: ﴿ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ﴾ ’’ہم صرف تیری عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ سے مدد مانگتے ہیں۔‘‘ حافظ ابن قیم رحمہ اللہ نے ’’مدارج السالکین‘‘ میں فرمایا ہے: ’’تمام شرائع، کتبِ سماوی اور ثواب وعقاب کا راز انھی دو کلموں میں ہے۔ حتیٰ کہ کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک سو چار کتابیں نازل کی ہیں ان تمام کتابوں کا خلاصہ تورات، انجیل اور قرآن پاک میں ہے اور ان تینوں کتابوں کے معانی و مطالب قرآن پاک میں ہیں اور قرآن پاک کے تمام معانی المفصل (یعنی سورۂ قٓ سے آخر تک) میں ہیں اور المفصل کے تمام مقاصد و معانی سورۃ الفاتحہ کی اس آیت میں ہیں۔‘‘[1] ان کی یہ کتاب اگرچہ ’’منازل السائرین‘‘ کی شرح ہے، مگر درحقیقت یہ انھی دو کلموں کی شرح پر مشتمل ہے اور اس کا نام ہے: ’’مدارج السالکین بین منازل إیاک نعبد و إیاک نستعین‘‘ ’’استعن‘‘ اور ’’استعنت‘‘ کا مادہ ’’عون‘‘ ہے جس کے معنی ہیں: مدد اور پشت پناہی۔ اور ’’استعانۃ‘‘ کے معنی ہیں: مدد طلب کرنا۔ اسی کے ہم معنی لفظ ’’استغاثۃ‘‘ ہے یعنی مدد طلب کرنا، مدد و تعاون کے لیے بلانا۔ انسان مدنی الطبع ہے [1] مدارج (۱/ ۸۵).