کتاب: شرح حدیث ابن عباس - صفحہ 119
پھر اس نے بتلایا کہ کل دوپہر کو حاکمِ مصر قیلولہ کر رہا تھا اس نے خواب میں دیکھا کہ اسے کہا جا رہا ہے اس شہر میں محمد نامی چار بزرگ بھوکے ہیں اور فاقے نے انھیں نڈھال کر دیا ہے۔ اس نے یہ تھیلیاں آپ کی خدمت میں بھیجی ہیں اور آپ کو قسم دے کر کہا ہے یہ مال ختم ہوجائے تو اس کی اطلاع دے دینا۔[1] بالکل اسی نوعیت کا واقعہ امام حسن بن سفیان الفسوی رحمہ اللہ کا ہے، فرماتے ہیں کہ ہم نو ساتھی مصر میں سماعِ حدیث کے لیے ٹھہرے ہوئے تھے۔ جو اثاثہ تھا، سب ختم ہو گیا۔ کوئی چیز نہ بچی کہ اسے فروخت کرسکیں، تین دن ہم اسی طرح بھوکے رہے۔ چوتھا روز آیا تو شدید ضرورت کی بنا پر سوال کر کے کھانا لانے کا فیصلہ ہوا۔ کھانا لانے کے لیے قرعہ اندازی کی گئی تو قرعہ میرے نام نکلا، میں بڑا پریشان ہوا اور حیران رہ گیا۔ میرا نفس کسی سے مانگنے کی اجازت نہیں دیتا تھا۔ میں مسجد کے ایک کونے میں دو رکعتیں پڑھنے لگا۔ دو رکعتیں لمبی پڑھیں اسی دوران میں اللہ تعالیٰ سے دعا بھی کرتا کہ اے اللہ! ہماری پریشانی دور فرما دے۔ میں ابھی دو رکعتوں سے فارغ نہیں ہوا تھا کہ ایک شخص مسجد میں آیا اس کے ہمراہ ایک خادم تھا جس کے ہاتھ میں رومال تھا۔ وہ آتے ہی پوچھنے لگا: تم میں سے حسن بن سفیان کون ہے؟ میں نے سر سجدے سے اٹھایا اور کہا: میں حسن بن سفیان ہوں۔ اس نے کہا امیر ابن طولون آپ کو سلام پیش کرتے تھے اور آپ کے بارے میں ہونے والی کوتاہی کی معذرت چاہتے تھے۔ انھوں نے یہ ہدیہ بھیجا ہے چنانچہ ہر ایک کو ایک ہزار دینار دیے اور یہ بھی بتلایا کہ وہ کل آپ کی زیارت کے لیے آئیں گے۔ [1] التذکرۃ، السیر (۱۴/ ۲۷۰، ۵۰۸) معجم الأدباء (۱۸/ ۴۶) التقیید (۱/ ۱۲۱) تاریخ بغداد (۲/ ۱۶۴).