کتاب: شرح حدیث ابن عباس - صفحہ 112
تمھارے سب انسان اور تمھارے جن ایک جگہ جمع ہو کر مجھ سے سوال کریں تو میں ہر ایک کا سوال پورا کر دوں تو اس سے جو کچھ میرے پاس ہے کوئی کمی نہیں آئے گی، مگر صرف اسی قدر کہ دریا میں سوئی داخل کی جائے۔ تو جس قدر سوئی کو دریا کا پانی لگے بس اسی قدر میرے خزانوں میں کمی ہوگی۔‘‘ جامع ترمذی وغیرہ میں اسی کے ساتھ یہ اضافہ بھی ہے: (( ذَلِکَ بِأَنِّيْ جَوَّادٌ وَاجِدٌ مَاجِدٌ أَفْعَلُ مَا أُرِیْدُ عَطَائِيْ کَلَامٌ وَعَذَابِی کَلَامٌ إِذَا أَرَدْتُّ شَیْئًا فَإِنَّمَا أَقُوْلُ لَہُ کُنْ فَیَکُوْنُ )) [1] ’’یہ اس لیے کہ میں سخی ہوں، واجد و ماجد ہوں، جو چاہتا ہوں کرتا ہوں، میرا کسی کو عطا کرنا میرا کلام اور حکم ہے اور میرا عذاب میرا کلام اور حکم ہے، جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہوں تو میں کہتا ہوں ’’ہوجا‘‘ سو وہ ہو جاتا ہے۔‘‘ الواجد اور الماجد، غنی اور مغنی کے معنی میں ہے۔ ’’الواجد‘‘ وہ ہے جو ہر اِرادہ پورا کرنے پر قادر ہے اور ’’الماجد‘‘ وہ ہے جو کامل قدرت کے ساتھ ساتھ بہت سخی اور صاحب فضل و اِحسان ہے۔[2] اس لیے سب کی سننے اور سمجھنے والا اور سب کو عطا کرنے والا صرف اللہ ہے۔ ’’فِيْ صَعِیْدٍ وَّاحِدٍ‘‘ (ایک ہی میدان میں) کا جملہ نہایت قابل غور ہے کہ سب جن اور اِنسان ایک ہی میدان میں اکٹھے ہو کر اپنی اپنی بولیوں میں مجھے پکاریں تو میں سب کی سنتا ہوں۔ یہ امتیاز صرف اللہ ذوالجلال و الاکرام کا ہے کہ سب کی آوازیں بہ یک وقت سنتا سمجھتا ہے کوئی انسان ایک وقت میں اتنی مختلف آوازوں [1] ترمذي (۲۴۹۵) أحمد (۵/ ۱۵۴، ۱۷۷) وغیرہ. [2] شرح الأسماء للرازي (ص: ۲۸۴).