کتاب: شرح حدیث ابن عباس - صفحہ 109
پہلے موجود تھا، وہی آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے اندر یا جو کچھ ان کے مابین ہے سب کو پیدا کرنے والا ہے، اس کی مثل کوئی نہیں، وہی سننے والا، دیکھنے والا ہے، اے اللہ کی مخلوق! تم پر افسوس ہے کہ تم اپنے خالق کو نہیں پہچانتے جیسا کہ پہچاننا چاہیے، اگر قیامت کے روز مجھے اللہ تعالیٰ کے ہاں کچھ بھی اختیار حاصل ہو تو میں تمھارے اول و آخر کے سب بوجھ ضرور اُٹھا لوں۔‘‘ غور فرمائیے! شیخ عبدالقادر کیا فرما رہے ہیں ایک ایک جملہ سبق سے بھر پور ہے۔ دنیا و آخرت میں ان پر سہارا لینے والوں کو کیسے سمجھایا ہے کہ میری تمام تر ہمدردیاں تمھارے ساتھ ہیں اگر مجھے کچھ تو اختیار حاصل ہو! وہ کتنی ہی دل سوزی سے فرماتے ہیں: ’’یَا قَوْمِ أَجِیْبُوْنِيْ فَإِنِّيْ دَاعِيْ إِلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ أَدْعُوْکُمْ إِلٰی بَابِہِ وَطَاعَتِہٖ لَا أَدْعُوْکُمْ إِلٰی نَفْسِيْ، اَلْمُنَافِقُ لَیْسَ یَدْعُوْ الْخَلْقَ إِلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ ھُوَ دَاعٍ إِلٰی نَفْسِہٖ ھُوَ طَالِبُ الْحُظُوْظِ وَالْقَبُوْلِ طَالِبُ الدُّنْیَا‘‘[1] ’’اے میری قوم! میری بات مانو کہ میں اللہ کا داعی ہوں، میں تمھیں اس کے دروازے پر اور اس کی اطاعت کی طرف بلاتا ہوں، اپنے نفس کی طرف نہیں بلاتا۔ منافق انسان مخلوق کو اللہ کی طرف نہیں بلایا کرتا وہ اپنے نفس کی طرف بلاتا ہے، وہ لذتوں کا طالب، لوگوں میں شہرت کا حریص اور دنیا کا وہ طالب ہوتا ہے۔‘‘ [1] المجلس (۸).