کتاب: شرح حدیث ابن عباس - صفحہ 102
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھکاری بننے اور سوال کرتے پھرنے کی سخت مذمت کی ہے۔ اس حوالے سے مزید روایات ’’الترغیب و الترہیب‘‘ کے باب ’’الترہیب من المسئلۃ‘‘ کی مراجعت فرمائیے۔ مگر افسوس آج مسلمان کس قدر بھکاری بنا ہوا ہے، بلکہ اکثر مسلمان ممالک کا یہی حال ہے جس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے علاوہ کسی اور سے سوال کرنا شرعاً اور عقلاً کئی اعتبار سے ناپسندیدگی کا باعث ہے۔ کسی سے سوال کرنا اور مانگنا دراصل اس کو پکارنا ہے اور یہ پکارنا عبادت ہے۔ چنانچہ حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( اَلدُّعَائُ ھُوَ الْعِبَادَۃُ )) ’’پکارنا ہی عبادت ہے۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ ﴾ [المؤمن: ۶۰] ’’اور تمھارے رب نے فرمایا مجھے پکارو، میں تمھاری دعا قبول کروں گا، بے شک وہ لوگ جو میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں عن قریب ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔‘‘[1] شاہ عبدالقادر دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’بندگی کی شرط ہے اپنے رب سے مانگنا، نہ مانگنا غرور ہے۔ اگر دنیا نہ مانگے تو مغفرت ہی مانگے۔‘‘[2] حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( إِنَّہُ مَنْ لَمْ یَسْأَلِ اللّٰہَ یَغْضَبْ عَلَیْہِ )) [3] [1] ترمذي (۲۹۶۹، ۳۳۷۲) أبو داود (۱۴۷۹) أحمد (۴/ ۲۶۷، ۲۷۱) الأدب المفرد (۷۱۴) وغیرہ. [2] موضح. [3] ترمذي (۳۳۷۳) أحمد (۲/ ۴۴۲) ابن ماجہ (۳۸۲۷) الأدب المفرد (۶۵۸).