کتاب: شرح حدیث ابن عباس - صفحہ 100
حضرت عوف رضی اللہ عنہ بن مالک اشجعی فرماتے ہیں کہ ہم سات، آٹھ یا نو ساتھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے تھے کہ آپ نے فرمایا: کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی ہے؟ ہم نئے نئے مسلمان ہوئے تھے ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم نے آپ سے بیعت کی ہے۔ تو آپ نے پھر فرمایا: کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی ہے؟ ہم نے اپنے ہاتھ بڑھائے اور عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم آپ سے بیعت کرتے ہیں، فرمائیے کس پر بیعت کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( أَنْ تَعْبُدُوْا اللّٰہَ وَلَا تُشْرِکُوْا بِہٖ شَیْئًا، وَالصَّلَوَاتُ الْخَمْْسُ، وَتُطِیْعُوْا )) وَأَسَرَّ کَلِمَۃً خَفِیَّۃً: (( وَلَا تَسْئَلُوْا النَّاسَ )) ’’یہ کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ اور پانچ نمازیں پڑھو اور تم اطاعت و فرماں برداری کرو۔ اور ایک کلمہ آہستہ سے فرمایا۔ اور (وہ یہ تھا کہ) لوگوں سے کوئی سوال نہ کرو۔‘‘ حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’ان بیعت کرنے والوں میں سے بعض کو میں نے دیکھا کہ اگر ان میں سے کسی ایک کی لاٹھی (سواری کے دوران) گر جاتی تو وہ کسی کو اسے پکڑانے کا بھی نہیں کہتے تھے۔‘‘[1] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کو جو وصیتیں فرمائیں اور ایک روایت میں ہے کہ جن باتوں پر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر بیعت کی ان میں سے ایک یہ تھی: [1] صحیح مسلم (۱۰۴۳) ترمذي.