کتاب: شرح ارکان ایمان - صفحہ 329
سنن ابی داؤد میں ایک روایت یوں آئی ہے: وعن ابن الدیلمی قال أتیت أبی بن کعب فقلت لہ وقع فی نفسی شییٔ من القدرفحدثنی بشییٔ لعل اللّٰہ أن یذھبہ من قلبی قال لو أن اللّٰہ عذب أھل سمواتہ وأھل أرضہ عذبھم وھو غیر ظالم لھم ولو رحمھم کانت رحمتہ خیرا لھم من أعمالھم ولو أنفقت مثل أحد ذھبا فی سبیل اللّٰہ ما قبلہ اللّٰہ منک حتی تؤمن بالقدر وتعلم أن ماأصابک لم یکن لیخطئک وما أخطأ ک لم یکن لیصیبک ولومت علی غیر ھذا لدخلت النار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فحدثنی عن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم مثل ذلک [1] ابن دیلمی کہتے ہیں میں ابی بن کعب کے پاس آیا اور انہیں کہا کہ میرے دل میں تقدیر کے بارے میں کچھ خیال آگیا ہے آپ مجھے کچھ بتائیں شاید اﷲ تعالیٰ اس وہم کو دور کردے،تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر اﷲ تعالیٰ سب آسمان والوں اور زمین والوں کو عذاب دے تو وہ ظالم نہیں ہوگا اور اگر وہ ان پر رحم کرے تو اسکی رحمت انکے اعمال سے انکے لئے زیادہ بہتر ہے۔ اور اگر تم احد پہاڑ کے برابر بھی سونا اﷲ کے راستے میں خرچ کرو تووہ تب تک قبول نہیں ہوگا جب تک کہ تم تقدیر پر ایمان نہ لاؤاور جان لوکہ جو کچھ تمہیں ملنا ہے وہ تم سے بچ نہیں سکتا اور جو کچھ تم سے رہ گیا وہ تمہیں نہیں مل سکتا،اور اگر تم اسکے علاوہ کسی اور عقیدہ پر مرے تو جہنم میں داخل ہوگے........۔ ان احادیث سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ تقدیر پر ایمان لانا فرض ہے اور اس کا انکار کفر ہے۔
[1] رواہ ابوداؤد کتاب السنۃ باب فی القدر