کتاب: شرح ارکان ایمان - صفحہ 328
أصحاب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فسألناہ عما یقول ھؤلاء فی القدر فوفق لنا عبد اللّٰہ بن عمر بن الخطاب رضی اللّٰہ عنھما داخل المسجد فاکتنفتہ أنا وصاحبی أحدنا عن یمینہ والآخر عن شمالہ فظننت أن صاحبی سیکل الکلام إلی فقلت أبا عبد الرحمن إنہ قد ظھر قبلنا ناس یقرؤون القرآن ویتقفرون العلم وذکر من شأنھم وأنھم یزعمون أن لاقدر وأن الامر أنف قال فإذا لقیت اولئک فأخبرھم إنی بریٔ منھم وأنھم براء منی والذی یحلف بہ عبد اللّٰہ بن عمر لو أن لأحدھم مثل أحد ذھبا فأنفقہ ماقبل اللّٰہ منہ حتی یؤمن بالقدر۔ [1]
گے جو’’قدر‘‘ کے بارے میں کلام کرتے ہیں پس عبداﷲ بن عمر رضی اﷲعنہمااتفاقا ً ہمیں مسجد کے اندر مل گئے تو ہم دونوں ایک دا ئیں طرف سے اور دوسرا بائیں طرف سے آپ کے کندھے کے قریب ہوگئے،میں سمجھ گیا کہ میرا ساتھی با ت کرنے کی ذمہ داری مجھ پر ہی ڈالے گا اس لئے میں نے خود ہی کہا اے ابو عبدالرحمن (عبداﷲ بن عمر رضی اﷲعنہما) ہمارے علاقے میں کچھ لوگ ظاہر ہوئے ہیں جو قرآن پڑھتے ہیں،علم حاصل کرتے ہیں اور اس نے انکے حالات بتائے اور بتایا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ تقدیر کچھ نہیں سارے معاملات نئے ہیں،تو عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲعنہمانے فرمایا جب تم ان سے ملو تو انہیں بتادو کہ میں ان سے بری ہوں اور وہ مجھ سے بری ہیں اور عبد اﷲ بن عمررضی اﷲعنہما نے قسم کھا کر فرمایا کہ اگر ان میں سے کسی کے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو اور اسے وہ خرچ کردے تو اﷲتعالیٰ تب تک قبول نہیں کرے گا جب تک وہ تقدیر پر ایمان نہ لائے۔
[1] رواہ مسلم،کتاب الإیمان،باب بیان الإیمان والإسلام والإحسان ووجوب الإیمان باثبات قدر اللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ.... واللفظ لہ/ ابوداؤد،کتاب السنۃ،باب فی القدر