کتاب: شرح ارکان ایمان - صفحہ 326
قدرت کے قائل ومعترف ضرور ہیں،تو اﷲ تعالیٰ کی قدرت پر ایمان لانا اس کی قضاء وقدر پر ایمان لانے کو مستلزم ہے۔کیونکہ جب اس بات کا اقرار کرلیا کہ اﷲ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے تو ان چیزوں میں سے ایک تقدیر بھی ہے لہذا اﷲ تعالیٰ تقدیر پر بھی قادرہے۔ نمبر۲: ... جب کوئی معمار (مستری) کوئی عمارت (بلڈنگ) بنانا چاہتا ہے تو وہ سب سے پہلے کسی چھوٹے ورقہ پر اس کا مکمل نقشہ کھینچ کر اس کی تکمیل کی مدت بھی مقرر کرلیتا ہے اور پھر اس کو بنانا شروع کردیتا ہے تو وہ مقررہ عمارت متعینہ مدت میں مکمل ہوجاتی ہے اور وہ بلڈنگ اس کاغذ کے ورقہ سے نکل کر حیّزو وجود میں آجاتی ہے اور وہ بالکل نقشے کے مطابق ہوتی ہے،اس میں نہ کمی ہوتی ہے نہ زیادتی۔ جب ایک ضعیف وعاجز معمار اپنے ہی نقش کردہ ورقہ کے مطابق عمل کرکے مقررہ مدت کے اندر اس عمارت کو خارج میں لاسکتا ہے تو اس قادر وقیوم اور علیم وخبیر کیلئے کس طرح انکار کیا جاتا ہے،جس نے تمام مخلوقات کی مقادیر کو آسمان وزمین کی تخلیق سے پچاس ہزار سال پہلے لکھ دیا ہے تو وہ اس کے مطابق کیوں عمل نہیں کرسکتا؟کیا یہ کوئی معقول بات ہے؟ نمبر۳: یہ ساری کائنات اﷲتعالیٰ کی مملوک ہے اور انسان بھی چونکہ اس کائنات کا ایک جزوہے لہذا انسان بھی اﷲ تعالیٰ کا مملوک ہے، جب یہ بات طے شدہ ہے تو کیا یہ کو ئی معقول بات ہے کہ کوئی مملوک اپنے مالک کی ملکیت میں بغیر اس کی اجازت ومشیئت کے تصرف کرسکے؟ظاہر ہے کہ ہرگز نہیں۔