کتاب: شرح ارکان ایمان - صفحہ 325
قدریہ کے اس نظریہ کا موجد ِ اول معبد جہنی ہے انکے مذہب کا بیان کرتے ہوئے ’’صاحب الکواشف الجلیۃ‘‘ لکھتے ہیں :
وأما القدریۃ فھم اتباع معبد الجہنی لأنہ أول من تکلم بالقدر وحقیقۃ مذھبھم أنھم یقولون ان أفعال العباد وطاعاتھم ومعاصیھم لم تدخل تحت قضاء اللّٰہ وقدرہ فأثبتوا قدرۃ اللّٰہ علی أعیان المخلوقین وأوصافھم ونفوا قدرۃ اللّٰہ علی أفعال المکلفین وقالوا إنہ لم یردھا ولم یشأھا منھم وھم الذین أرادوھا وشاء وھا وفعلوھا استقلا لا وأنکروا أن یضل من یشاء ویھدی من یشاء فأثبتوا خالقا مع اﷲ ‘‘[1]
’’ رہے قدریہ تو وہ معبد جہنی کے پیروکار ہیں، یہ پہلا شخص ہے جس نے تقدیر کے بارے میں کلام کیا، اور انکے مذہب کی حقیقت یہ ہے کہ انکے نزدیک بندوں کے افعال،طاعات اور معاصی اﷲ کی قضاء وقدر کے تحت داخل نہیں،انہوں نے مخلوق کے اعیان واوصاف میں تو اﷲ کی قدرت تسلیم کی مگر بندوں کے افعال کے بارے میں اﷲ کی قدرت کا انکار کیا، اور کہا کہ اﷲ نے نہ تو افعالِ عباد کا ارادہ کیا اور نہ انہیں چاہا بلکہ خود بندوں ہی نے ان کا ارادہ کیا اور چاہا اور انہیں سرانجام دیا اور انہوں نے اس بات کا بھی انکار کردیا کہ اﷲ جس کو چاہے گمراہ کردے اور جس کو چاہے ہدایت دے، اس طرح انہوں نے اﷲ کے ساتھ دوسرا خالق ثابت کردیا‘‘
قدریہ کے نظرئیے کا بطلان
قدریہ کا یہ نظریہ کئی وجوہ سے باطل ہے:
نمبر۱:
قدریہ اگر چہ شدت وسختی کے ساتھ تقدیر کے منکر ہیں،مگر وہ اﷲ تعالیٰ کی
[1] الکواشف الجلیۃ عن معانی الواسطیۃ ص ۴۹۹