کتاب: شرح ارکان ایمان - صفحہ 324
أفعال العباد وأثبتوا أن العبد خالق لفعلہ بقدرتہ وإرادتہ فأثبتوا خالقین غیر اللّٰہ ولھذا سموا مجوس ھذہ الأمۃ لأن المجوس یزعمون أن الشیطان یخلق الشر والأشیاء المؤذیۃ فجعلوہ خالقا مع اللّٰہ فکذلک ھؤلاء جعلوا العباد خالقین مع اللّٰہ ‘‘[1]
بندوں کے افعال کو ان سے مستثنیٰ کردیا کہ بندہ اپنے افعال کو اپنی قدرت اور ارادہ سے پیدا کرتا ہے تو قدریہ نے بھی دو خالق ثابت کردیئے اسی لئے انہیں اس امت کا مجوسی قراردیا گیا ہے کیونکہ مجوسی برائیوں کا خالق شیطان کو قرار دیتے ہیں تو جس طرح انہوں نے اﷲ کے ساتھ ایک اور خالق قرار دیدیا اسی طرح قدریہ نے بندوں کو اﷲ کے ساتھ خالق قرار دیدیا‘‘
قدریہ کی مذمت میں بہت سی احادیث آئی ہیں جن میں سے ایک یہ ہے:
حدثنی نافع ان ابن عمر جا ء ہ رجل فقال : إن فلانا یقرأ علیک السلام فقال إنہ قد بلغنی أنہ قد أحدث،فإن کان قد أحدث فلا تقرأ ہ منی السلام فإنی سمعت رسول ا یقول یکون فی ھذہ الأمۃ أو أمتی الشک منہ، خسف ومسخ أو قذف فی أھل القدر‘‘[2]
’’ابن عمر رضی اﷲعنہماکے پاس ایک شخص آیا اور کہا کہ فلاں آپ کو سلام کہہ رہا ہے، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھے اس کے بارے میں یہ بات پہنچی ہے کہ اس نے دین میں نئی بات ایجاد کی ہے اگر یہ صحیح ہے تو میری طرف سے اسے سلام نہ کہنا کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ اس امت میں یامیر ی امت میں راوی کو شک ہے زمین میں دھنسنا اور شکلوں کا مسخ ہونایا پتھروں کا برسنا قدریوں میں ہوگا‘‘
[1] شرح العقیدۃ الواسطیۃ:ص ۱۴۷
[2] رواہ الترمذی ابواب القدر باب ۱۶قال الترمذی حسن صحیح وحسنہ الألبانی