کتاب: شرح ارکان ایمان - صفحہ 322
نمبر۳:
ہم دیکھتے ہیں کہ انسان (جوآپکے خیال میں مجبورِ محض ہے) اپنی دنیا کے فوائد کے حصول کیلئے ہر اس طریقہ کار کو اختیار کرتاہے جو اس کو نفع وفائدہ بخشے اور نفع بخش طریقہ کار کو چھوڑ کر نقصان دہ طریقہ اختیار کرکے اپنے لئے تقدیر کوحجت نہیں بناتا تو کیا وجہ ہے کہ یہی انسان اپنے دینی معاملات میں نفع بخش طریقہ کار کو چھوڑ کر نقصان دینے والے طریقہ کو اختیار کرکے تقدیر کو حجت بناتاہے،حالانکہ دینی ودنیاوی دونوں معاملات میں تقدیر کا معاملہ ایک جیسا ہے۔
اس مسئلہ کی مزید وضاحت کیلئے ہم ایک مثال پیش کرتے ہیں۔
’’ ہم ایک بیمار کو دیکھتے ہیں،جسے ڈاکٹر کی طرف سے سخت کڑوا شربت پینے کا حکم ملا ہے تو وہ اس دوا کو پیتا ہے حالانکہ اس کاجی نہیں چاہتا،اسی طرح اسے کھانا کھانے کا جی چاہتا ہے لیکن اسے منع کردیا جاتا ہے اور وہ کھانا نہیں کھاتا،اور یہ سب کچھ وہ حصولِ شفاء اور سلامتی کیلئے کرتا ہے اور یہ ممکن نہیں ہوتا کہ وہ بیمار اس کڑوے شربت کو چھوڑ دے جو اسے اچھا نہیں لگتا یا وہ نقصان دہ کھانا کھالے جس سے اسے منع کیا گیا ہے اور پھر تقدیر کو بہانہ بنالے۔
تو پھرکیا وجہ ہے کہ انسان اس چیز کو چھوڑ دیتا ہے جس کا حکم اﷲ اور اسکے رسول ا نے دیا ہے اوراس فعل کا ارتکاب کرتا ہے جس سے انہوں نے منع کردیا ہے اور پھر تقدیر کو حجت بناتا ہے،کیا ان دونوں باتوں (دینی و دنیاوی) کا معاملہ ایک جیسا نہیں ہے؟ ‘‘
نمبر۴:
اب ہم اس جبری شخص سے سوال کرتے ہیں جو اﷲ تعالیٰ کے اوامر کو ترک کرتا اور اسکے نواہی کا ارتکاب کرکے تقدیر کو حجت بناتا ہے کہ اگر کوئی دوسرا شخص اس پر ظلم وزیادتی کرکے اسکے مال پر قبضہ کرلے یا اسکی عزت پر حملہ کرلے اور پھر تقدیر کو حجت بناکرکہے کہ :