کتاب: شرح ارکان ایمان - صفحہ 321
معلوم ہوا کہ انسان کوا پنے افعال پر قدرت واختیار ہے اور جو کچھ کرتا ہے اپنی قدرت واختیار اور مشیئت سے کرتا ہے کیونکہ اگر انسان اپنے افعال میں مجبورِ محض ہوتا تو وہ ہر اس چیز کا مکلف ہوتا جو اس کی طاقت وگنجائش سے باہر ہے،حالانکہ یہ باطل ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اگر انسان سے خطأونسیان اور اکراہ ومجبوری کی حالت میں گناہ سرزد ہوجائے تو اس کی پکڑ نہیں ہوتی،جیسا کہ حدیث شریف میں ہے:
عن ابن عباس عن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال ان اللّٰہ وضع عن أمتی الخطأ والنسیان وما استکرھوا علیہ۔ [1]
’’ابن عباس رضی اﷲعنہماآپ ا سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ا نے فرمایا کہ بے شک اﷲ تعالیٰ نے میری امت سے خطاء نسیان اور ہر اس چیز سے جس پر مجبور کے گئے ہیں اٹھا لئے ہیں ‘‘
اور اکراہ کے متعلق قرآن کریم میں یوں آیا ہے:
﴿ مَنْ کَفَرَ بِاللّٰہِ مِنْ بَعْدِ إِیْمَانِہٖ إِلاَّ مَنْ اُکْرِہَ وَقَلْبُہٗ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِیْمَانِ وَلٰکِنْ مَّنْ شَرَحَ بِالْکُفْرِ صَدْرًا فَعَلَیْھِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّٰہ وَلَھُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ ﴾ [2]
’’ جو شخص اﷲ پر ایمان لانے کے بعد اسکے ساتھ کفر کرے مگر یہ کہ اس پر جبر کیا جائے اور وہ محض زبان سے کلمہ کفر کہہ دے اور اسکا دل ایمان پر مطمئن ہو تو اسکی کوئی پکڑ نہیں اور لیکن جو کشادہ دلی سے کفر کو قبول کرلے تو ایسے لوگوں پر اﷲ کا غضب ہوگا، اور انکے لئے بڑا عذاب ہے‘‘
معلوم ہوا کہ انسان بالکل مجبور نہیں بلکہ صاحب ِ مشیئت واختیارہے۔
[1] رواہ ابن ماجہ،کتاب الطلاق، باب طلاق المکرہ والناسی،واللفظ لہ/الطبرانی فی المعجم الکبیر ج ۱۱ ص ۱۳۴/ مسند عبداللّٰہ بن عباس :الرقم: ۱۱۲۷۴صححہ الألبانی
[2] سورۃ النحل : ۱۰۶