کتاب: شرح ارکان ایمان - صفحہ 320
چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ وَمَا تَشَآؤُنَ إِلَّا أَنْ یَّشَآئَ اللّٰہ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ ﴾ [1] ’’ اور تم نہیں چاہ سکتے بغیر اسکے کہ اﷲ چاہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے‘‘ اب بتایئے انسان اپنے افعال میں مجبورِ محض ہے یا صاحب ِ مشیئت واختیار۔ نمبر۲: دوسرا یہ کہ اﷲتعالیٰ نے انسان کو بعض کام کرنے کاحکم دیا ہے۔جیسے : ﴿ وَ أَقِیْمُوا الصَّلَاۃَ وَآتُوا الزَّکَاۃَ وَارْکَعُوْا مَعَ الرَّاکِعِیْنَ ﴾ [2] ’’اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو‘‘ اوربعض افعال سے اﷲ تعالیٰ نے منع کیا ہے ﴿ وَلَا تَأْکُلُوْا مِمَّا لَمْ یُذْکَرِ اسْمُ اللّٰہ عَلَیْہِ ﴾ [3] اور تم اس گوشت میں سے نہ کھاؤ جس پر اﷲ کا نام نہ لیا گیا ہو‘‘ مگر اس کے باوجود اﷲ تعالیٰ نے انسان کو اس کی طاقت وگنجائش سے زیادہ تکلیف نہیں دی جیسے اﷲتعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰہ مَا اسْتَطَعْتُمْ ﴾ [4] ’’پس جس قدر تم اﷲ سے ڈرسکتے ہو، ڈرتے رہا کرو۔‘‘ ایک دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَا نُکَلِّفُ نَفْسًا إِلاَّ وُسْعَہَا ﴾ [5] ’’اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے ہم کسی کو اسکی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے‘‘
[1] سورۃ التکویر:۲۹ [2] سورۃ البقرۃ:۴۳ [3] سورۃ الأنعام:۱۲۱ [4] سورۃ التغابن :۱۶ [5] سورۃ الاعراف:۴۲