کتاب: شرح ارکان ایمان - صفحہ 319
الی الخلق مجاز وإنما اللّٰہ ھو فاعل تلک الأفعال فھی فعلہ حقیقۃ لاأفعالھم والعبد لیس لہ قدرۃ ولا إرادۃ ولا فعل لہ البتۃ‘‘[1] مجاز ہے اور بے شک اﷲ ہی فاعل ہے ان افعال کا پس یہ حقیقۃ ً اسی کا فعل ہے، بندوں کا فعل نہیں اور بندے کی نہ تو کوئی قدرت ہے اور نہ ہی ارادہ اور نہ ہی اس کا کو ئی فعل ہے‘‘ یہ تو ان کے نظریے کی تفصیل ہوئی، مگر یہ کئی وجوہ سے بالکل غلط وباطل ہے۔ جبریہ کے نظریئے کا بطلان نمبر۱: حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے افعال میں مختار اور صاحب مشیئت ہے جو اپنے افعال کو اپنی مشیئت، اختیار وارادہ سے کرتا ہے،اس پرکسی کا کوئی جبر نہیں۔ اسی اختیار کا اثبات کرتے ہوئے اﷲتعالیٰ فرماتا ہے: ﴿فَمَنْ شَآئَ اتَّخَذَ إِلٰی رَبِّہِ مَآبًا﴾ [2] ’’پس جو شخص چاہے اپنے رب کے پاس ٹھکانہ بنالے‘‘ ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا: ﴿نِسَآؤُکُمْ حَرْثٌ لَّکُمْ فَأْتُوْا حَرْثَکُمْ أَنّٰی شِئْتُمْ ﴾[3] ’’تمہاری بیویاں،تمہاری کھیتیاں ہیں سو جس روش سے تم چاہو،اپنی کھیتی میں آؤ ‘‘ مذکورہ آیات سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ انسان جو کچھ کرتا ہے اس میں اسے اختیار ہوتاہے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ انسان کی مشیئت وچاہت اﷲتعالیٰ کی مشیئت کے تابع ہے یعنی جب اﷲ تعالیٰ چاہے گا تب ہی انسان چاہے گا۔
[1] الکواشف الجلیۃ ص۴۹۷ [2] سورۃ النبأ:۳۹ [3] سورۃ البقرۃ:۲۲۳