کتاب: شرح عقیدہ واسطیہ - صفحہ 560
[ویفعلونہ]… اور وہ جو کچھ بھی کرتے ہیں ۔
[فانما ہم فیہ متبعون للکتاب والسنۃ]… اس جگہ ہم اس بات کی طرف توجہ مبذول کرانا ضروری خیال کرتے ہیں کہ ہم جو کچھ بھی کہتے اور جو کچھ بھی کرتے ہیں ، وہ سب کچھ کہتے اور کرتے وقت ہمیں یہ شعور ہونا چاہیے کہ ہم اس میں رسول اللہ علیہ الصلاۃ والسلام کی اتباع کر رہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ہمیں اللہ تعالیٰ کے لیے مخلص بھی ہونا چاہیے تاکہ ہمارے جملہ اقوال وافعال اللہ رب العزت کی عبادت قرار پائیں ، اسی لیے کہا جاتا ہے، غافل لوگوں کی عبادت بھی عادت ہوتی ہے، جبکہ بیدار مغز اور باشعور لوگوں کی عادات بھی عبادت ہوتی ہیں ۔
توفیق ایزدی سے نوازے گئے انسان کے لیے تو عادات کو بھی عبادات میں تبدیل کرنا ممکن ہے، جبکہ غافل انسان اپنی عبادت کو بھی عادات میں تبدیل کر ڈالتا ہے۔
بندہ مومن کو اس بات کا حریص ہونا چاہیے کہ وہ اپنے تمام کے تمام اقوال وافعال کو کتاب اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے تابع رکھے تاکہ وہ اس سے اجر وثواب حاصل کر سکے، اور کمال ایمان کے ساتھ ساتھ انابت الی اللہ کے اعزاز سے بہرہ مند ہو سکے۔
اُمت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تہتر فرقے ہوں گے
٭ مؤلف رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
((لکن لما اخبر النبی صلی اللہ علیہ وسلم ان امتہ ستفترق علی ثلاث وسبعین فرقۃ، کلہا فی النار الا واحدۃ وہی الجماعۃ۔))[1]
’’مگر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خبر دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت تہتر فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی اور وہ سارے کے سارے جہنم میں جائیں گے بجز ایک کے اور وہ ہے، یہ جماعت۔‘‘
شرح:… [ان امتہ]… یعنی امت اجابت، نہ کہ امت دعوت، اس لیے کہ امت دعوت میں یہود ونصاریٰ بھی داخل ہیں ، اور وہ خود کئی کئی فرقوں میں تقسیم ہیں ، یہودیوں کے اکہتر اور نصاریٰ کے بہتر فرقے ہیں ، جبکہ یہ امت تہتر فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی، وہ سارے کے سارے اپنے آپ کو اسلام اور اتباع رسول کی طرف منسوب کریں گے۔
[وکلہا فی النار الا واحدۃ] … اس سے خلود فی النار لازم نہیں آتا۔ اس کا معنی یہ ہے کہ وہ اپنے عمل کی وجہ سے دخول جہنم کے مستحق ہیں ۔
[1] اسے احمد: ۴/ ۱۰۲۔ ابوداود: ۴۵۹۷۔ ابن ماجہ: ۲/ ۴۷۹۔ ابن ابی عاصم نے السنۃ، میں (۱/ ۳۳) آجری نے الشریعۃ: ۱۸۔ للالکائی نے شرح السنۃ: ۱۵۰ اور حاکم نے المستدرک:۱/۱۲۸ میں معاویہ بن ابوسفیان کی حدیث سے روایت کیا، شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں ، یہ حدیث صفوان بن عمرو، ازہر بن عبداللہ الحرازی، ابو عامر عبداللہ بن لحی عن معاویہ سے محفوظ ہے، جسے ان سے کئی لوگوں نے روایت کیا ہے… ملاحظہ ہو: اقتضاء الصراط: ۱۱۸/۱ اور السلسلۃ الصحیحہ از البانی: ۲۰۴۔