کتاب: شرح عقیدہ واسطیہ - صفحہ 558
’’وہ فخر وغرور، تکبر ظلم وزیادتی اور مخلوق پر بڑائی سے منع کرتے ہیں ، وہ حق کے ساتھ ہو یا بدون حق۔‘‘
شرح:…فخر قول کے ساتھ ہوتا ہے اور خیلاء فعل کے ساتھ، بغی سے مراد ظلم وزیادتی اور استطالہ سے ترفع اور بڑائی مراد ہے۔
اہل سنت انسان کو دوسرے انسانوں پر فخر کرنے سے منع کرتے ہیں اپنے آپ کو عالم، غنی اور بہادر جتانے سے منع کرتے ہیں اور اگر وہ اس سے آگے بڑھ کر دوسروں پر اپنی بڑائی جتاتے ہوئے یہ کہے کہ میرے نزدیک تمہاری اہمیت ہی کیا ہے؟ تو یہ مخلوق پر ظلم وزیادتی اور اپنی بڑائی کا اظہار ہے۔
خیلاء افعال کے ساتھ ہوتا ہے، مثلاً تکبرانہ چال چلنا، نخوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اکڑ کر چلنا، سر اور گردن اٹھا کر چلنا۔ گویا کہ وہ آسمان پر چڑھ گیا ہو، متکبرانہ چال چلنے والے کی اللہ تعالیٰ نے یہ فرما کر توبیخ فرمائی ہے:
﴿وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا اِنَّکَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًاo﴾ (الاسراء: ۳۷)
’’اور زمین میں اکڑکر مت چل، بیشک تو نہ تو زمین کو پھاڑ سکتا ہے اور نہ پہاڑوں کی بلندی کو پہنچ سکتا ہے۔‘‘
اہل سنت لوگوں کو نخوت وغرور سے منع کرتے ہوئے انہیں اس بات کی تلقین کرتے ہیں کہ قول وعمل میں تواضع اختیار کی جائے۔ فروتنی کا مظاہرہ کیا جائے، یہاں تک کہ اپنی تعریف سے بھی گریز کیا جائے، الا یہ کہ اس کی کوئی خاص ضرورت ہو، جس طرح کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا تھا: ’’اگر مجھے معلوم ہوتا کہ کوئی شخص مجھ سے زیادہ کتاب اللہ کا علم رکھتا ہے، تو میں اونٹ پر سوار ہو کر اس کی خدمت میں حاضر ہوتا۔‘‘[1] اس سے ان کے پیش نظر دو باتیں تھیں :
۱۔ لوگوں کو کتاب اللہ کی تعلیم حاصل کرنے کا شوق دلانا۔
۲۔ انہیں خود اپنی ذات سے کسب فیض کی دعوت دینا۔
صفات حمیدہ سے متصف انسان کو یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ اس کی خوبیاں لوگوں پر مخفی رہیں گی، وہ لوگوں کے سامنے ان کا ذکر کرے یا نہ کرے، جب کوئی انسان لوگوں کے سامنے اپنی خوبیاں بیان کرتا ہے، تو وہ ان کی نظروں سے گر جاتا اور بے وقعت ہو کر رہ جاتا ہے، لہٰذا اس سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
[البغی]… لوگوں پر زیادتی کرنا، اس کے تین مواقع ہوتے ہیں ، جن کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح وضاحت فرمائی ہے: ’’تمہارے خون تمہارے اموال اور تمہاری عزتیں تم پر حرام ہیں ۔‘‘[2]
اموال میں زیادتی : مثلاً اس چیز کا دعویٰ کرنا، جو اس کی نہیں ہے یا اپنے ذمہ واجب الاداء امور کا انکار کرنا یا کسی کی چیز پر قبضہ کر لینا، یہ اموال پر زیادتی کی صورتیں ہیں۔
خون میں زیادتی : مثلاً کسی کو قتل کرنا یا زخمی کرنا، وغیرہ۔
[1] اسے مسلم(۲۴۶۳) نے روایت کیا۔
[2] اسے بخاری: ۱۷۳۹ نے ابن عباس اور مسلم: ۱۶۷۹ نے ابوبکرہ سے روایت کیا۔