کتاب: شرح عقیدہ واسطیہ - صفحہ 553
نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ کو کون سا عمل زیادہ پسند ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا: ’’وقت پر نماز ادا کرنا۔‘‘ میں نے کہا: پھر کون سا عمل؟ آپ نے فرمایا: ’’والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا۔‘‘ میں نے کہا: اس کے بعد؟ فرمایا: ’’فی سبیل اللہ جہاد کرنا۔‘‘[1]
والدین سے مراد باپ اور ماں ہے، رہے دادا اور دادی، تو ان کے ساتھ بھی حسن سلوک کرنا چاہیے، مگر وہ باپ اور ماں کے ساتھ حسن سلوک کے برابر نہیں ہو سکتا، اس لیے کہ ماں باپ نے جو مشقت اٹھائی، اولاد کی جس طرح نگہبانی کی اور ان کا ہر طرح سے خیال رکھا، یہ کردار صرف انہیں کا ہی ہو سکتا ہے دادا، دادی کا نہیں ۔ مگر صلہ رحمی کے حوالے سے ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنا بھی واجب ہے۔ وہ دوسرے رشتہ داروں کے مقابلے میں صلہ رحمی کے زیادہ حق دار ہیں ، مگر بر (حسن سلوک) صرف ماں باپ کا استحقاق ہے، اس جگہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ البر (حسن سلوک) کا کیا مطلب ہے؟
البر: بقدر استطاعت خیر وبھلائی کرنا اور برے سلوک سے باز رہنا، کے مفہوم میں ہے۔
والدین پر مال خرچ کرنا، ان کی خدمت کرنا، انہیں خوش رکھنا، خندہ پیشانی سے ملنا، ان سے خوبصورت انداز میں گفتگو کرنا، ان کے ساتھ خوبصورت رویے کا مظاہرہ کرنا، اور ہر وہ کام کرنا جس سے انہیں راحت وسکون حاصل ہو، یہ سب کچھ (البر) کے زمرے میں آتا ہے۔
اسی لیے راجح قول یہ ہے کہ اولاد پر ماں باپ کی خدمت کرنا واجب ہے، مگر یہ اس صورت میں ہے، جب اس سے اولاد کو کوئی ضرر لاحق نہ ہوتا ہو، اس صورت میں اس پر ان کی خدمت کرنا واجب نہیں ہے، الایہ کہ اس کی کوئی شدید ضرورت لاحق ہو۔ اسی لیے ہم کہتے ہیں : والدین کی اطاعت کرنا ان امور میں واجب ہے، جن میں ان کی منفعت ہو، اور اس سے اولاد کو بھی کوئی ضرر لاحق نہ ہوتا ہو۔ اور اگر اسے اس سے کوئی ضرر لاحق ہوتا ہو، وہ بدنی ہو یا دینی، تو پھر ان کی اطاعت کرنا واجب نہیں ہے، مثلاً وہ اسے کسی واجب کے ترک کرنے یا کسی حرام امر کے ارتکاب کا حکم دیں تو اس صورت میں ان کی اطاعت نہیں کی جائے گی، رہا مال کے ساتھ ان سے حسن سلوک کرنا تو اسے ان پر خرچ کرنا واجب ہے، اگرچہ وہ زیادہ ہی کیوں نہ ہو، بشرطیکہ اس سے اسے ضرر نہ پہنچتا ہو، اور اس کے ساتھ اس کی کسی حاجت کا بھی تعلق نہ ہو، اور خاص طور پر باپ کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ اولاد کو نقصان پہنچائے بغیر جس قدر چاہے اس سے اس کا مال لے سکتا ہے۔
اگر ہم آج لوگوں کے حالات کا جائزہ لیں تو اکثر لوگ والدین کے ساتھ حسن سلوک کا مظاہرہ نہیں کرتے، بلکہ وہ ان کے نافرمان واقع ہوئے ہیں ، لوگ اپنے دوستوں کے ساتھ تو حسن سلوک کرتے اور ان کے ساتھ بیٹھنے سے نہیں اکتاتے، مگر اپنے باپ یا ماں کے ساتھ تھوڑی دیر بیٹھنے سے بھی اکتا جاتے ہیں ، یوں لگتا ہے، جیسے وہ آگ کے انگارے پر بیٹھے ہوں ، یہ شخص ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے والا نہیں ہے، والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے والا وہ شخص ہے جو اپنے والدین کو مل کر خوش ہو، حتیٰ الامکان ان کی خدمت کرے اور جہاں تک ہو سکے انہیں خوش رکھنے کی کوشش کرے۔
[1] اسے بخاری: ۵۹۷۰ اور مسلم: ۸۵ نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کیا۔