کتاب: شرح عقیدہ واسطیہ - صفحہ 533
فصل: امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے بارے میں اہل السنہ و الجماعہ کا منہج ٭ مؤلف رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ((ثم ہم مع ہذہ الاصول یأمرون بالمعروف و ینہون عن المنکر۔)) ’’پھر وہ ان اصولوں کے باوجود امر بالمعروف اورنہی عن المنکر کا فریضہ بھی سر انجام دیتے ہیں ۔‘‘ شرح:… [ہم] … یعنی اہل السنہ و الجماعہ۔ [مع ہذہ الاصول] … جن کا مؤلف رحمہ اللہ نے قبل ازیں ذکر کیا۔ یعنی آثار رسول علیہ الصلاۃ والسلام کی اتباع کرنا، خلفاء راشدین کی اتباع کرنا، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے احکامات کو دوسروں کے اقوال و افعال پر مقدم رکھنا اور مسلمانوں کے اجماع کی اتباع کرنا۔ اہل سنت ان اصولوں کے باوجود۔ معروف و منکر کی تعریف [یأمرون بالمعروف و ینہون عن المنکر] … نیکی کا حکم کرتے اور برائی سے منع کرتے ہیں ۔ [المعروف] … ہر وہ چیز جس کا شریعت نے حکم دیا ہے اس کا وہ بھی حکم دیتے ہیں ۔ [المنکر] … ہر وہ چیز جس سے شرع نے منع کیا ہے اس سے وہ بھی منع کرتے ہیں ۔ اور یہ اس لیے کہ اس کا اللہ نے حکم دیا ہے: ﴿وَلْتَکُنْ مِّنْکُمْ اُمَّۃٌ یَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَیْرِ وَ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ﴾ (آل عمران:۱۰۴) ’’تم میں سے ایک ایسی جماعت ضرور ہونی چاہیے جو خیر کی دعوت دیتی رہے، نیکی کا حکم کرتی رہے اور برائی سے منع کرتی رہے۔‘‘ نبی علیہ الصلاۃ والسلام نے ارشاد فرمایا: ’’یقینا تم نیکی کا حکم کرو گے اور برائی سے منع کرو گے، ظالم کا ہاتھ پکڑ لو گے اور اسے حق کی طرف موڑ دو گے۔‘‘[1]
[1] اسے ابو داؤد (۴۳۳۶)، ابن ماجہ ۴۰۰۶، ترمذی(۳۰۴۸،۳۰۴۷) نے روایت کیا، ترمذی فرماتے ہیں :’’یہ حدیث حسن غریب ہے‘‘ فرماتے ہیں : ’’یہ حدیث اسی طرح ابو عبیدہ عن عبداللہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے۔ جبکہ بعض اسے مرسل کے طور پر عن ابی عبیدہ عن البنی صلی اللہ علیہ وسلم کی سند سے روایت کرتے ہیں ۔ ہیثمی نے ’’المجمع‘‘ (۲۶۹/۷) میں اسے طبرانی کی طرف مسنوب کیا ہے جو کہ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ اور فرماتے ہیں : اس کے راوی صحیح کے راوی ہیں ۔ ملاحظہ ہو تفسیر ’’در منثور‘‘ زیر تفسیر آیت: ﴿لُعِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ…﴾ (المائدہ:۷۹۔۷۸)