کتاب: شرح عقیدہ واسطیہ - صفحہ 531
’’پھر اگر تم کسی چیز میں جھگڑا کرو تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹا دو۔‘‘
یہ ارشاد مبارک اس بات کی دلیل ہے کہ جس چیز پر ہمارا اجماع ہو جائے تو اجماع پر اکتفا کرتے ہوئے اسے کتاب و سنت کی طرف لوٹانا واجب نہیں ہے۔ مگر یہ استدلال محل نظر ہے۔دوسری آیت:
﴿وَ مَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُ الْہُدٰی وَ یَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤمِنِیْنَ نُوَلِّہٖ مَا تَوَلّٰی وَ نُصْلِہٖ جَہَنَّمَ وَ سَآئَ ت مَصِیْرًاo﴾ (النساء:۱۱۵)
’’اور جو شخص سیدھا راستہ واضح ہو جانے کے بعد رسول کی مخالفت کرے اور مومنوں کے راستہ کے علاوہ کی پیروی کرے تو ہم اسے ادھر پھیر دیتے ہیں جدھر وہ چاہتا ہے اور اسے داخل کرتے ہیں جہنم میں ، اور وہ بہت بری جگہ ہے۔‘‘
اس کے لیے انہوں نے اس حدیث سے بھی استدلال کیا ہے: ’’لا تجتمع امتی علی ضلالۃ‘‘[1] میری امت گمراہی پر جمع نہیں ہو گی۔‘‘
اس حدیث کو بعض علماء حسن اور بعض دوسرے ضعیف قرار دیتے ہیں ، مگر ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر چہ یہ حدیث سند کے اعتبار سے ضعیف ہے لیکن مذکورہ بالا قرآنی نص اس کے متن کی صحت کی شہادت دیتی ہے۔
جمہور امت کے نزدیک اجماع مستقل دلیل ہے، اگر ہمارے سامنے کوئی ایسا مسئلہ آئے جس پر اجماع ہو چکا ہو تو ہم اسے اس اجماع کے ساتھ ثابت کریں گے۔
گویا مؤلف رحمہ اللہ اس جملہ سے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اہل سنت کے نزدیک اجماع شرعی حجت ہے۔
اہل سنت و الجماعت لوگوں کے ظاہری و باطنی قول و عمل کا موازنہ تین اُصولوں سے کرتے ہیں
٭ مؤلف رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
((وہم یزنون بہذہ الأصول الثلاثۃ جمیع ماعلیہ الناس من أقوال و أعمال باطنۃ أوظاہرۃ مما لہ تعلق بالدّین۔))
’’ وہ لوگوں کے دین سے متعلقہ ہر قول و عمل کا وہ ظاہر ہو یا باطن ان اصول ثلاثہ کے ساتھ موازنہ کرتے ہیں ۔‘‘
شرح:…[أصول الثلاثۃ] … اہل سنت کے تین اصول یہ ہیں : کتاب اللہ، سنت رسول اللہ اور اجماع۔یعنی اہل سنت لوگوں کے ہر قول و عمل کا وہ ظاہر ہو یا باطن ان اصول ثلاثہ کے ساتھ موازنہ کرتے ہیں ، وہ جب تک کسی چیز کا کتاب و سنت اور اجماع کے ساتھ موازنہ نہ کر لیں اس وقت تک اسے حق تسلیم نہیں کرتے، اگر ان تین اصولوں سے اس کی
[1] اسے ترمذی (۲۰۷/۳)، ابن ماجہ (۱۳۰۳/۲)، اور ’’المستدرک‘‘ (۱۵۵/۱) میں حاکم نے روایت کیا۔ اور سخاوی نے اسے المقاصد: (۴۶۰) میں ذکر کیا اور اس کے بارے میں فرمایا: ’’اس حدیث کا متن مشہور ہے اس کی بہت سی سندیں اور متعدد شواہد ہیں ۔‘‘
ہیثمی نے اسے ’’المجمع‘‘ میں ذکر کیا (۱۲۹/۵) اور فرمایا: ’’اسے طبرانی نے دو سندوں کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ جن میں سے ایک کے راوی ثقہ اور صحیح کے راوی ہیں ۔ بجز مرزوق آل طلحہ کے اور وہ بھی ثقہ ہے۔‘‘ البانی نے ’’ظلال الجنۃ‘‘ میں اسے حسن کہا ہے۔ (۸۰)