کتاب: شرح عقیدہ واسطیہ - صفحہ 484
نہیں سن رہے ہو‘‘[1]
انہوں نے اللہ تعالیٰ کے وعدہ کو سچا ہی پایا تھا، نبی علیہ السلام انہیں شرم دلانے اور ڈانٹ پلانے کے لیے ان سے یہ کچھ فرما رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿ذٰلِکُمْ فَذُوْقُوْہُ وَ اَنَّ لِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابَ النَّارِ﴾ (الانفال:۱۴)
’’اس عذاب کا مزہ چکھو، اور بیشک کافروں کے لیے جہنم کا عذاب ہے۔‘‘
ان کے مرنے کے بعد آگ ان کے سامنے کھڑی تھی، جس سے انہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حقانیت کا یقین ہو گیا۔ مگر اب بات بہت دور جاپہنچی تھی۔اہل بدر کے ہاتھوں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو جس عظیم فتح و نصرت سے نوازا اس کی وجہ عرب لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے سہم گئے اور اس کے بعد انہیں بڑی قدر و منزلت حاصل ہو گئی، اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف جھانک کر فرمایا: ’’تم جو چاہو عمل کرو یقینا میں نے تمہاری مغفرت فرما دی ہے۔‘‘[2]
اب ان سے جن گناہوں کا بھی صدور ہو گا انہیں معاف کر دیا جائے گا۔
یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ جنگ بدر میں ان کے عظیم کردار کی وجہ سے ان سے جس قدر بھی کبیرہ گناہ سر زد ہوں گے وہ قابل معافی ہوں گے۔اس حدیث میں اس بات کی بھی بشارت موجود ہے کہ انہیں کفر کی حالت میں موت نہیں آئے گی، اس لیے کہ ان کی مغفرت فرما دی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ دو چیزوں کا متقاضی ہے:
یا تو اس کے بعد ان سے کفر کا صدور ممکن ہی نہیں ہے۔
اگر کسی کے مقدر میں کفر ہوا بھی تو اللہ تعالیٰ اسے تو بہ کرنے اور اسلام کی طرف رجوع کرنے کی توفیق عطا فرمائے گا صورت حال جو بھی ہو، اس میں ان کے لیے بیت بڑی بشارت ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ ان میں سے کسی نے اس کے بعد کفر کیا ہو۔
اصحاب الشجرہ کے فضائل
٭ مؤلف رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
((وبأنہ لا یدخل النار احد بایع تحت الشجرۃ، کما ا خبربہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، [3] بل لقد رضی اللہ عنہم و رضوا عنہ وکانو ا اکثر من الف و اربع مائۃ۔)) [4]
’’ اور یہ کہ درخت کے نیچے بیعت (الرضوان) کرنے والا کوئی ایک صحابی بھی جہنم میں نہیں جائے گا جس طرح
[1] اسے بخاری: ۳۹۸۶ اور مسلم: ۲۸۷۴ نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کیا۔
[2] اسے بخاری:۳۰۰۷ اور مسلم ۲۴۹۴ نے روایت کیا۔
[3] صحیح مسلم میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے ان کا یہ قول مروی ہے کہ مجھے ام مبشر نے خبر دی اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہما کے پاس فرما رہے تھے: ’’ان شاء اللہ درخت کے نیچے بیعت کرنے والوں سے ایک شخص بھی جہنم میں نہیں جائے گا۔
[4] اسے بخاری:۴۱۵۴ نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا اسے ابو داؤد:۴۶۵۳ اور ترمذی:۳۸۵۹ نے بھی اسی طرح روایت کیا۔