کتاب: شرح عقیدہ واسطیہ - صفحہ 411
ہم اس کا مشاہدہ کرنے سے قاصر ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد اس امر کا بھی احتمال رکھتا ہے کہ اس منبر کو قیامت کے دن آپ کے حوض پر رکھا جائے گا۔ ثانیاً: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حوض میں نہر کوثر سے دوپر نالے گرائے جائیں گے[1] کوثر ایک بہت بڑی نہر ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جنت میں عطا کی جائے گی، جس سے دوپرنالے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوض میں اتارے جائیں گے۔ ثالثاً: حوض کا وقت پل صراط عبور کرنے سے قبل ہوگا، اس لیے کہ وقت اس کا متقاضی ہوگا، لوگوں کو پل صراط عبورکرنے کے مر حلہ سے قبل پانی کی ضرورت ہوگی۔[2] رابعاً: حوض کوثر پر وہ لوگ آئیں گے جن کا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان ہوگا، اور شریعت کی اتباع کرنے والے ہوں گے۔ جبکہ اتباع شریعت سے جی چرانے اور تکبر کرنے والوں کو اس سے دھتکار دیا جائے گا۔[3] خامساً: اس کے پانی کی کیفیت کے بارے میں مؤلف رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’ماء ہ اَشدّ بیاضاً من ابتن وأحلی من العسل‘‘ ’’اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے میٹھا ہوگا۔‘‘ اس کی مہک کستوری کی مہک سے بھی عمدہ ہوگی۔ جس طرح کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی حدیث سے ثابت ہے۔[4] سادساً: اس کے برتنوں کے بارے میں مؤلف فرماتے ہیں : ’’أنیتہ عدد نجوم السماء‘‘ ’’ اس کے برتن آسمان کے ستاروں کی تعداد میں ہوں گے۔‘‘ ایک دوسری حدیث کے الفاظ ہیں : ’’أنیتہ کنجوم السماء‘‘ ’’اس کے برتن آسمان کے ستاروں جیسے ہوں گے۔‘‘ یعنی اس کے برتن آسمان کے ستاروں کی طرح بہت زیادہ اور چمک دار ہوں گے۔ سابعاً: اس کے اثرات کے بارے میں مؤلف رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’من یشرب منہ شربۃ لا یظمأ بعد ہا أبداً‘‘ ’’جو کوئی اس سے ایک گھونٹ پانی پی لے گا اس کے بعد کبھی پیاسا نہیں ہوگا۔‘‘ حتی کہ پل صراط پر بھی نہیں ہوگا، اور نہ اس کے بعد ہوگا۔ ایسا اللہ تعالیٰ کی حکمت بالغہ کے تحت ہے، اس لیے کہ دنیا میں شریعت کے گھاٹ سے پیاس بجھانے والا کبھی خسارے میں نہیں رہتا۔ ثامنا: اس کی مساحت کے بارے میں مؤلف فرماتے ہیں : ’’طولہ شہروعرضہ شہر‘‘ ’’اس کا طول و عرض ایک ایک ماہ کی مسافت کے برابر ہوگا۔‘‘ مؤلف رحمہ اللہ کا یہ قول اس کے مدوّر ہونے کا متقاضی ہے، اس لیے کہ اس کا ہر جانب سے اس مسافت کے برابر ہونا اس کے مدور ہونے کی صورت میں ہی ممکن ہے۔ یہ مسافت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اونٹوں کی عام رفتار کے اعتبار سے ہے۔
[1] اسے مسلم (۲۳۰۱۔ ۲۳۰۰) نے ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا۔ [2] اسے عبداللہ بن امام احمد نے مسند (۱۳/۴) پر اپنی زیادات میں روایت کیا، فتح الباری (۴۶۷/۱۱) میں حافظ فرماتے ہیں : یہ اس امر میں صریح ہے کہ حوض صراط سے قبل ہوگا۔ [3] ملاحظہ فرمائیں : صحیح بخاری (۶۵۷۶)، صحیح مسلم (۲۲۹۷) عن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ۔ [4] اسے بخاری (۶۵۷۹)، اور مسلم (۲۲۹۲) نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت کیا۔