کتاب: شرح عقیدہ واسطیہ - صفحہ 282
’’اور اسی طرح ہم نے آپ کی طرف قرآن وحی کیا روح اپنے حکم سے، آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہے؟ لیکن ہم نے اسے نور بنایا ہے، ہم اس کے ذریعے سے اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں ہدایت دیتے ہیں ۔‘‘
جب قرآن امر ہے اور خلق کا قسیم ہے، تو وہ غیر مخلوق قرار پایا، اس لیے کہ اگر قرآن مخلوق ہوتا تو پھر یہ تقسیم صحیح نہ ہوتی۔ یہ قرآن کے کلام اللہ ہونے کی سمعی دلیل ہے۔
رہی اس کی عقلی دلیل، تو ہم کہتے ہیں کہ قرآن کلام اللہ ہے اور کلام ایسا وجود نہیں ہے جواز خود قائم ہو یہاں تک کہ اللہ سے الگ ہو جائے۔ اگر اس کی یہ کیفیت ہوتی تو ہم اسے مخلوق تسلیم کر لیتے۔ یہ کلام متکلم بہ کی صفت ہے، پھر جب وہ متکلم بہ کی صفت ہے اور اللہ کی طرف سے ہے تو وہ غیر مخلوق ہوگی، اس لیے کہ تمام کی تمام صفات غیر مخلوق ہیں ۔
نیز اگر قرآن مخلوق ہوتا تو امر ونہی اور خبر واستخبار کا مدلول باطل قرار پاتا، اس لیے کہ اگر یہ صیغے مخلوق ہوتے تو پھر محض شکلیں ہوتے جنہیں اس پر تخلیق کیا گیا ہوتا اور ان کی اپنے معنی پر کوئی دلالت نہ ہوتی۔ قرآن کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف بھی کی گئی ہے، جبرئیل امین علیہ السلام کی طرف بھی اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھی۔ اللہ تعالیٰ کی طرف اضافت کی مثال یہ ارشاد باری ہے: ﴿فَاَجِرْہُ حَتّٰی یَسْمَعَ کَلٰمَ اللّٰہِ﴾ (التوبۃ:۶) ’’اسے پناہ دے دیں حتیٰ کہ وہ کلام اللہ کو سن لے۔‘‘
جبرئیل امین علیہ السلام کی طرف اضافت کی مثال یہ ارشاد ربانی ہے: ﴿اِِنَّہٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ کَرِیْمٍ o ذِیْ قُوَّۃٍ عِنْدَ ذِیْ الْعَرْشِ مَکِیْنٍo﴾ (التکویر: ۱۹۔۲۰) ’’یقینا یہ پیغام ہے فرشتے عالی مرتبت کا، جو صاحب قوت عرش والے کے نزدیک اونچے درجے والا ہے۔‘‘ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اس کی اضافت کی مثال یہ قرآنی فرمان ہے: ﴿اِِنَّہٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ کَرِیْمٍo وَمَا ہُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ قَلِیْلًا مَا تُؤْمِنُوْنَo﴾ (الحاقۃ: ۴۰۔ ۴۱) ’’یقینا وہ قرآن پیغام ہے بڑے باعزت پیامبر کا اور وہ کسی شاعر کا قول نہیں ہے۔‘‘ جبرئیل امین اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف قرآن کی اضافت ان کے مبلغ ہونے کی حیثیت سے ہے، اس لیے نہیں کہ ان سے اس کی ابتدا ہوئی۔
قول والیہ یعودکے معنی و مفہوم
قرآن کے بارے میں اہل سنت کے اس عقیدہ کہ: وہ اسی کی طرف لوٹ جائے گا۔‘‘ کے دو مفہوم ہیں :
۱۔ اس کا پہلا مفہوم وہ ہے جو بعض آثار میں وارد ہوا کہ قرآن کو ایک ہی رات میں اٹھا لیا جائے گا، لوگ صبح اس حالت میں کریں گے کہ قرآن ان کے پاس نہیں ہوگا، نہ ان کے سینوں میں اور نہ ہی مصاحف میں ، اللہ اسے اوپر اٹھا لے جائے گا۔[1]
[1] عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی اس روایت کو طبرانی نے روایت کیا، اس کے راوی صحیح کے راوی ہیں ، بجز شداد بن معقل کے اور وہ بھی ثقہ ہے، ملاحظہ ہو: مجمع الزوائد: ۷/ ۳۳۰۔ ابن حجرؒ فرماتے ہیں ، اس کی سند صحیح ہے مگر یہ روایت موقوف ہے فتح الباری: ۱۶/۱۳ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی اسی جیسی مرفوع حدیث بھی ہے، جسے ابن ماجہ نے روایت کیا اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری: ۱۶/۱۳ میں اس کی سند کو صحیح قرار دیا، ملاحظہ ہو: الصحیحۃ، از البانی۔