کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 653
تیسرا مبحث :
سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر
اہل روافض کے گھناؤنے الزامات کا جائزہ
سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی پاک دامنی کی گواہی اور ثبوت کے طور پر قرآن کریم نازل ہوا اور جن لوگوں نے افواہیں پھیلائیں ان پر حد قذف (۸۰ کوڑے) نافذ ہوئی۔ لیکن اہل تشیع مسلسل سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگاتے آئے ہیں اور اس ذات شریفہ پر بہتانات کے طومار باندھنے سے باز نہیں آتے اور وہ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اگر دوبارہ زندہ ہو کر آئیں تو انھیں حد کے کوڑے ضرور لگائیں گے اور ان سے وہ انتقام لیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کی شکلیں مسخ کر دے۔ چنانچہ عبداللہ بن شبر[1] ایرانی شیعہ نے اپنی کتاب میں یوں لکھا ہے:
’’صدوق نے اپنی کتاب ’’العلل‘‘ میں باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے۔ اس نے کہا: اے کاش! ہمارے امام قائم (مہدی) کو حمیرا (یعنی سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا )مل جائے تاکہ وہ فاطمہ بنت محمد کے انتقام میں اس پر حد کے کوڑے لگائے۔‘‘[2] (نقل کفر کفر بناشد)
اگرچہ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانے والا اجماعاً کافر ہے مگر آپ ان ظالموں کو دیکھتے رہیں کہ جس تہمت سے اللہ تعالیٰ نے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی پاک دامنی اپنی کتاب میں ثابت کی ہے وہ وہی تہمت سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر مسلسل لگاتے آ رہے ہیں ۔یعنی ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی برأت بھی قبول نہیں ۔
اسی لیے آپ کو یقین ہونا چاہیے کہ روافض اپنے معتقدات کے مطابق اپنے حسد اور بغض کے الاؤ میں جل کر ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا پر تواتر و تکرار کے ساتھ تہمت لگا رہے ہیں اور کچھ ایسے بھی ہیں جو اپنے اس عقیدے کو تقیہ کے طور پر اپنے سینے میں چھپا کر رکھتے ہیں ، لیکن جیسے عربوں کے نامور شاعر نے کہا تھا:
[1] عبداللہ بن محمد رضا بن محمد شبر۔ ۱۱۸۸ ہجری میں نجف میں پیدا ہوا۔ امامیہ اثنی عشریہ شیعوں کا سرخیل مانا جاتا ہے۔ اس کی تصنیفات میں سے ’’تفسیر القرآن الکریم‘‘ اور ’’الحق الیقین فی معرفۃ اصول الدین‘‘ مشہور ہیں ۔ ۱۲۴۲ ہجری میں کاظمیہ میں فوت ہوا۔ (معارف الرجال لمحمد حرز الدین، ج ۲، ص: ۹۔ الذریعۃ للطہرانی، ج ۱۱، ص: ۲۱۶۔)
[2] حق الیقین فی معرفۃ اصول الدین، ج ۲، ص: ۲۵۔