کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 634
اکساتے اور اس کے معاون دیگر اسباب بھی اکٹھا کرتے اورآپ سے اپنی بات منوانے کے لیے علی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصی منت سماجت کرتے۔ لیکن علی رضی اللہ عنہ نے اس طرح کی پراگندگی کو ترک کر کے دوسرا مشورہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا۔ جب خادمہ آئی تو اس نے عائشہ رضی اللہ عنہا کی نیکی کی گواہی دی اور ہماری امی جان جس مدح و ثنا کی مستحق اور اہل تھیں ، خادمہ نے وہی مدح و ثنا بیان کر ڈالی۔ اس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سارا تکدر ختم ہو گیا اور علی رضی اللہ عنہ کا مشورہ نہایت خوشگوار ثابت ہوا۔ گویا سیّدنا علی رضی اللہ عنہ نے جو مشورہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا وہ ہماری امی جان عائشہ رضی اللہ عنہا کی عیب جوئی نہ تھا اور علی رضی اللہ عنہ اس الزام سے بری الذمہ ہیں ، لہٰذا علی رضی اللہ عنہ کے قول کو رافضی اپنی افتراء بازیوں کی دلیل نہیں بنا سکتے۔
اب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا موقف نکتہ وار بیان کریں گے:
۱۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مہینہ تک وحی رک گئی۔ ام المومنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کوئی وحی نہ آئی، ان لمحات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کی علیحدگی کے متعلق مشورہ طلب کیا۔
۲۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خادمہ خاص سیّدہ بریرہ رضی اللہ عنہا سے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں پوچھا تو اس نے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر کسی شک و شبہ کے متعلق کچھ نہ کہا۔ البتہ اتنا کہا کہ وہ کم عمری کی وجہ سے اہل خانہ کے گوندھے ہوئے آٹے سے غافل ہو جاتی ہیں ۔[1]
[1] ابن قیم رحمہ اللہ نے کہا: اگر یہ کہا جائے کہ کیا بات ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے معاملے میں پہلے توقف کیوں کیا؟پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں تحقیق شروع کر دی اور صحابہ سے مشورہ طلب کیا اور اس کی خادمہ سے اس کے بارے میں پوچھا۔
حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے احوال کو سب سے زیادہ جانتے تھے اور اس کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں قدر و منزلت کا علم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بخوبی تھا اور وہ کس سلوک کی مستحق تھیں ، یہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم تھا۔ کاش کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چند جلیل القدر صحابہ کی طرح کہہ دیتے: بے شک اللہ سبحانہ ہر عیب سے پاک ہے اور یہ بہت بڑا بہتان ہے۔ (النور: ۱۶) تو اس شبہ کا یہ جواب دیا جائے گا کہ یہ تمام ظاہر و باہر حکمتیں ہی اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کے سبب بنائیں اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا امتحان لیا اور اس کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آزمائش کی۔ حتیٰ کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے معاملے کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک ماہ تک وحی نازل نہ ہوئی۔ اس معاملے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کچھ بھی نازل نہیں کیا گیا۔ تاکہ اس کی وہ حکمتیں پوری ہو جائیں جو اس نے اس معاملے میں مقدر کی تھیں اور جن کا فیصلہ وہ کر چکا تھا اور وہ کمال کے انتہائی درجے پر پہنچ کر لوگوں کے سامنے آئیں اور سچے مومن اپنے ایمان، عدل و صدق پر اپنے رسوخ اور اللہ، اس کے رسول، اہل بیت اور سچے اہل ایمان کے متعلق اپنے یقین کو مزید پختہ کر لیں ۔ ان کے برعکس جو لوگ منافق تھے وہ بہتان اور منافقت میں مزید بڑھ جائیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اہل ایمان کے لیے ان کی منافقت اور ان کی سازشیں خوب واضح ہو جائیں ۔
(زاد المعاد لابن القیم، ج ۳، ص: ۲۳۴۔)