کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 626
بالکل اسی طرح ہی مفسر زمخشری[1] اور بیضاوی[2] وغیرہ نے کہا ہے۔[3] ب:....واقعہ افک کب پیش آیا؟ اس واقعہ کی متعین تاریخ پر مؤرخین متفق نہیں ۔[4] چنانچہ تین اقوال مشہور ہیں : ’’۴ ہجری، ۵ ہجری اور ۶ ہجری۔ جبکہ زیادہ مناسب ۵ ہجری ہے۔‘‘[5] ج:.... اس فتنہ کا بانی مبانی (ماسٹر مائنڈ) کون تھا؟ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : ’’جو اس واقعہ کا ذمہ دار ہے وہ عبداللہ بن ابی بن سلول تھا۔‘‘[6] ابن جریر نے لکھا: ’’علماء و سیرت نگاروں کے درمیان کوئی اختلاف نہیں کہ سب سے پہلے جس نے بہتان لگایا اور اپنے گھر والوں کو اکٹھا کر کے اس کے بارے میں افواہیں پھیلاتا تھا وہ عبداللہ بن ابی بن سلول ہے اور جیسا کہ میں نے لکھا اس معاملے کے گھناؤنے پن کی وجہ سے اسے اس فعل کا موجد کہا جاتا ہے۔‘‘[7] اس وضاحت سے ہمارا مقصد فرقہ ناصبیہ کی اس تہمت سے پردہ اٹھانا ہے جس کے تحت وہ مشہور کرتے ہیں کہ سیّدہ عائشہ کے بارے میں جو افواہیں گردش کر رہی تھیں وہ سیّدنا علی رضی اللہ عنہ ایجاد کرتے تھے اور قرآن کے مطابق وہی وہ شخص ہے جسے اس کے تکبر نے اس پر آمادہ کیا۔ اس تہمت کا پردہ امام، فاضل ابن شہاب زہری نے چاک کیا۔
[1] محمود بن عمر بن محمد خوارزمی زمخشری ہے۔ معتزلہ کا مرکزی قائد تھا۔ نحو، لغت، علم کلام اور علوم تفسیر کا ماہر تھا۔ ۴۶۷ ہجری میں پیدا ہوا۔ فصاحت و بلاغت اور بیان و ادب کا امام مانا جاتا تھا۔ اس کی تصنیفات سے ’’الکشاف‘‘ اور ’’الفائق‘‘ ہیں ۔ ۵۳۸ میں وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی، ج ۲۰، ص: ۱۵۱۔ طبقات المفسرین للادنہوی، ص: ۱۷۲۔) [2] عبداللہ بن عمر بن محمد ابو سعید شیرازی ناصر الدین بیضاوی شافعی المذہب تھا۔ علامہ، مفسر، رئیس القضاۃ، صالح، عابد، زاہد کے القاب سے پہچانا جاتا تھا۔ شیراز کا کچھ عرصہ تک قاضی رہا۔ اس کی تصنیفات میں سے ’’انوار التنزیل‘‘ و ’’شرح المصابیح‘‘ مشہور ہیں ۔ ۶۸۵ ہجری یا ۶۹۱ ہجری میں فوت ہوا۔ (شذرات الذہب لابن العماد، ج ۵، ص: ۳۹۱۔) [3] الحصون المنیعۃ لمحمد عارف الحسینی، ص: ۱۹۔ [4] الاصابۃ لابن حجر، ج ۸، ص: ۳۹۲۔ [5] البدایۃ و النہایۃ لابن کثیر، ج ۶، ص: ۱۸۱۔ [6] صحیح بخاری، حدیث نمبر: ۴۷۴۹۔ [7] تفسیر الطبری، ج ۱۷، ص: ۱۹۶۔