کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 620
سے بھی کوئی باہر نہ گیا[1] کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا نزول ہونے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی شدت کرب[2]کے آثار دکھائی دینے لگے۔ یہاں تک کہ آپ کی پیشانی سے چاندی کے بلبلے[3]سے نمودار ہو گئے۔ جو آپ کا پسینہ تھا حالانکہ اس دن نہایت سردی تھی۔ یہ اس وحی کا بوجھ تھا جو آپ پر نازل ہوتی تھی۔
بقول سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ کیفیت ختم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے جو الفاظ ادا فرمائے وہ یہ تھے: ’’اے عائشہ! اللہ عزوجل نے تجھے بری کر دیا ہے۔‘‘ میری امی نے کہا: تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جاؤ۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں ان کی طرف نہیں جاؤں گی اور اللہ عزوجل کے علاوہ کسی کی تعریف نہیں کروں گی۔ چنانچہ اللہ عزوجل نے یہ آیات نازل کی تھیں :
﴿ إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالْإِفْكِ عُصْبَةٌ مِنْكُمْ لَا تَحْسَبُوهُ شَرًّا لَكُمْ بَلْ هُوَ خَيْرٌ لَكُمْ لِكُلِّ امْرِئٍ مِنْهُمْ مَا اكْتَسَبَ مِنَ الْإِثْمِ وَالَّذِي تَوَلَّى كِبْرَهُ مِنْهُمْ لَهُ عَذَابٌ عَظِيمٌ (11) لَوْلَا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بِأَنْفُسِهِمْ خَيْرًا وَقَالُوا هَذَا إِفْكٌ مُبِينٌ (12) لَوْلَا جَاءُوا عَلَيْهِ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَإِذْ لَمْ يَأْتُوا بِالشُّهَدَاءِ فَأُولَئِكَ عِنْدَ اللّٰهِ هُمُ الْكَاذِبُونَ (13) وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ لَمَسَّكُمْ فِي مَا أَفَضْتُمْ فِيهِ عَذَابٌ عَظِيمٌ (14) إِذْ تَلَقَّوْنَهُ بِأَلْسِنَتِكُمْ وَتَقُولُونَ بِأَفْوَاهِكُمْ مَا لَيْسَ لَكُمْ بِهِ عِلْمٌ وَتَحْسَبُونَهُ هَيِّنًا وَهُوَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِيمٌ (15) وَلَوْلَا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ قُلْتُمْ مَا يَكُونُ لَنَا أَنْ نَتَكَلَّمَ بِهَذَا سُبْحَانَكَ هَذَا بُهْتَانٌ عَظِيمٌ (16) يَعِظُكُمُ اللّٰهُ أَنْ تَعُودُوا لِمِثْلِهِ أَبَدًا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ (17) وَيُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْآيَاتِ وَاللّٰهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ (18) إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَنْ تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ (19) وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ وَأَنَّ اللّٰهَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ ﴾ (النور: ۱۱۔۲۰)
’’بے شک وہ لوگ جو بہتان لے کر آئے ہیں وہ تمھی سے ایک گروہ ہیں ، اسے اپنے لیے برا
[1] ما رام: یعنی جدا نہ ہوئے۔ (فتح الباری لابن حجر، ج ۸، ص: ۶۸۔)
[2] البرحاء: شدت کرب۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر، ج ۱، ص: ۱۱۳۔)
[3] الجمان: چھوٹے موتی یا چاندی کے بلبلے (جو موتیوں کی طرح ہوتے ہیں )۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر لابن الاثیر، ج ۱، ص: ۳۰۱۔)