کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 610
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی کی اطاعت کریں جو ان سب کے نزدیک عظمت والی ہیں ۔
چنانچہ عمار رضی اللہ عنہ نے واضح کرنا چاہا کہ حق اگرچہ علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہے لیکن لوگ تو اسی کی طرف میلان رکھتے ہیں جو ان کے نزدیک عظیم ہوتا ہے۔ گویا عمار رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو بتا دیا کہ وہ بھی عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت کو مانتے ہیں اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا و جنت میں بیوی ہیں ۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم ان کے فضائل کو دیکھتے ہوئے ان کی رائے کی طرف مائل ہو جاؤ اور تمہارے نزدیک عائشہ رضی اللہ عنہا کی جو قدر و منزلت ہے اس کا لحاظ کرتے ہوئے حق چھوڑ دو۔
اسی کی مثل عبداللہ بن عباس رضی ا للہ عنہما کا وہ قول ہے جو انھوں نے عروہ سے کہا تھا۔ جب انھوں نے قول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں ابوبکر و عمر کی رائے پیش کی۔ میں سمجھتا ہوں کہ تم عنقریب برباد ہو جاؤ گے۔ میں کہتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور وہ کہتا ہے ابوبکر اور عمر نے منع کیا ہے۔[1] رضی اللہ عنہم
خطیب بغدادی رحمہ اللہ نے لکھا:
’’ابوبکر و عمر رضی ا للہ عنہما نے وہی کہا جو عروہ نے بیان کیا۔لیکن جب کوئی چیز سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہو جائے تو پھر کسی شخص کی تقلید میں سنت کو ترک کرنا جائز نہیں ۔‘‘[2]
علامہ معلمی یمانی[3] رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’التنکیل‘‘ میں سابقہ مفاہیم کے اثبات میں طویل بحث کی ہے۔ اس نے لکھا:
’’اکثر لوگ ان کی تقلید کی طرف مائل ہو جاتے ہیں جن کی عظمت ان کے دلوں میں راسخ ہوتی ہے اور وہ اس میں غلو کرتے ہیں .... اگر اس کی عظمت کو نہ ماننے والے زیادہ کلام کریں تو اس کے ماننے والے اپنے متبوع کی مدح و ثنا میں مبالغہ کر لیتے ہیں ۔ جو اس کے پیروکاروں کو
[1] مسنداحمد، ج ۱، ص: ۳۳۷، حدیث نمبر: ۳۱۲۱۔ الاحادیث المختارۃ لضیاء المقدسی، ج ۴، ص: ۲۰۴۔ الآداب الشرعیۃ، ج ۲، ص: ۷۰ پر ابن مفلح نے اسے حسن کہا اور تحقیق مسند احمد، ج ۵، ص: ۴۸ میں احمد شاکر نے اس کی سند کو صحیح کہا۔
[2] الفقیہ و المتفقہ للخطیب البغدادی، ج ۱، ص: ۳۷۷۔
[3] عبدالرحمن بن یحییٰ بن علی ابو عبداللہ المعلمی الیمانی، شیخ الاسلام، علامہ، اپنے زمانے کا ذہبی، ۱۳۱۳ ہجری میں پیدا ہوئے۔ المملکۃ العربیۃ السعودیۃ کے صوبہ عسیر کے قاضی مقرر ہوئے، پھر مکتبہ حرم مکی کے جنرل سیکرٹری مقرر ہوئے۔ راویوں کے حالات پر انھیں عبور حاصل تھا۔ ہمیشہ سلفی عقیدہ کا دفاع کیا اکثر کتب ستہ اور ان کے راویوں کی تحقیق کی۔ ۱۳۸۶ ہجری میں وفات پائی۔ ان کی مشہور تصنیف ’’التنکیل‘‘ ہے۔ (الاعلام للزرکلی، ج ۳، ص: ۳۴۲۔)