کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 605
اسلام نے دیا ہے۔[1] نیز صدوق نے اپنی سند کے ساتھ روایت کی ہے کہ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے قافلے والے جب ایک چشمے کے پاس سے گزرے جسے حوأب کا چشمہ کہا جاتا تھا تو وہاں کے کتے بھونکنے لگے۔ چنانچہ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: یہ کون سا پانی ہے؟ لوگوں میں سے کسی نے کہا: یہ حوأب کا چشمہ ہے۔ تو سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انا للّٰہ و انا الیہ راجعون پڑھا اور کہا: تم مجھے واپس لے جاؤ۔ تم مجھے واپس لے جاؤ۔ یہی چشمہ ہے جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا تھا: ’’تم وہ نہ ہو جانا جس پر حوأب کے کتے بھونکیں ۔‘‘ تو ان کے پاس چند لوگوں نے آ کر گواہی دی، انھوں نے حلفاً کہا کہ یہ حوأب کا چشمہ نہیں ۔[2] رافضیوں کے امام اکبر ’’مفید‘‘ کی کتاب کی اس روایت میں ام المومنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس کینے سے براء ت کی دلیل ہے۔ جس کی نسبت سے رافضی ام المومنین کو طعن و تشنیع کا نشانہ بناتے ہیں تو کیا جو عورت اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ اشیاء پر اس قدر جرأت کا مظاہرہ کرے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت توڑ ڈالے
[1] مختصر التحفۃ الاثنی عشریۃ لشاہ عبدالعزیز دہلوی: ۲۶۹۔ [2] من لا یحضرہ الفقیہ، ج ۳، ص: ۴۴۔ مسعودی جو معتزلی شیعہ ہے اس نے اپنی کتاب مروج الذہب، ج ۲، ص: ۳۹۵ میں لکھا: عائشہ رضی اللہ عنہا کے قافلے میں تقریباً چھ سو سوار تھے جو بصرہ کی طرف جا رہے تھے تو رات کے وقت بنو کلاب کے ایک چشمے پر وہ پہنچ گئے۔ جسے حوأب کے نام سے پہچانا جاتا تھا۔ اس پر بنو کلاب کے کچھ لوگوں کا بسیرا تھا۔ ان کے کتے قافلے والوں پر بھونکنے لگے۔ چنانچہ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: اس جگہ کا نام کیا ہے؟ ان کا اونٹ ہانکنے والے نے کہا: اس جگہ کا نام حوأب ہے۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ سن کر انا للّٰہ و انا الیہ راجعون پڑھا اور لوگوں کو بتایا جو کچھ اس پانی کے بارے میں انھیں کہا گیا تھا۔ چنانچہ وہ کہنے لگیں : تم مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حرم (مدینہ) میں لوٹا دو۔ مجھے اس سفر سے کوئی دلچسپی نہیں ۔ زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! یہ جگہ حوأب نہیں اور آپ کو جس نے بتایا اس نے غلط بتایا اور طلحہ اگلے لوگوں میں تھے۔ وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس پچاس آدمیوں کے ہمراہ آئے اور سب نے حلفاً کہا: یہ جگہ حوأب نہیں ۔ بقول مصنّف: اسلام میں یہ پہلی جھوٹی گواہی دی گئی۔ ابن العربی رحمہ اللہ نے اس کے جواب میں لکھا: البتہ تم (شیعوں ) نے حوأب کے پانی کے بارے میں جس گواہی کا تذکرہ کیا ہے درحقیقت تم نے بہت بڑے گناہ کا ارتکاب کیا ہے جو کچھ تم نے کہا وہ سب جھوٹ ہے۔ (العواصم من القواصم، ص: ۱۶۲۔) ابن العربی رحمہ اللہ نے حوأب والی حدیث کی پرزور طریقے سے تردید کی ہے اور کلی طور اس کی صحت سے انکار کیا ہے۔ شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس کا تعاقب کرتے ہوئے لکھا اور ہم اگرچہ اس کے مذکورہ گواہی کے انکار میں اس کے حامی اور موید ہیں کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو جن گناہوں سے محفوظ کر دیا ہے ان میں سے ایک جھوٹی گواہی بھی ہے۔ خصوصاً ان میں سے وہ دس جنھیں جنت کی بشارت بزبان نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں مل گئی۔ جیسے طلحہ اور زبیر رضی ا للہ عنہما ۔اسی طرح ہم ابن العربی رحمہ اللہ کے اس قول کا بھی انکار کرتے ہیں ’’اور نہ ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حدیث بیان کی۔‘‘ ایسا کیونکر ہو سکتا ہے؟ جبکہ محدثین کے ہاں متعدد معروف کتب ستہ میں یہ حدیث صحیح سند کے ساتھ موجود ہے۔ (السلسلۃ الصحیحۃ، للالبانی، ج ۱، ص: ۸۴۹۔)