کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 604
’’(اے میری بیویو!) کیا حال ہو گا تم میں سے اس کا؟ جس پر حوأب کے کتے بھونکیں گے۔‘‘
جواب شبہ:
اس شبہ کا جواب دو وجوہ سے دیا جائے گا:
وجہ نمبر ۱:.... اس حدیث کے صحیح ہونے میں اختلاف ہے۔ حفاظ کی ایک جماعت جیسے یحییٰ بن سعید القطان[1]،[2]، ابن طاہر المقدسی[3]،[4] ابن الجوزی[5] ابن العربی[6] نے اسے ضعیف کہا ہے۔ اگر تو اسے ضعیف مانا جائے تو شبہ خودبخود ختم ہو جاتا ہے اور اگر حدیث کو صحیح تسلیم کر لیا جائے جو کچھ متاخرین کی اس میں مختلف آراء ہیں ۔
وجہ نمبر ۲:.... متن حدیث میں دلیل موجود ہے کہ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا لوٹ جانا چاہتی تھیں اور اس کا انھوں نے دو بار تذکرہ کیا۔ لیکن زبیر رضی اللہ عنہ نے انھیں کہا: آپ واپس جا رہی ہیں اور ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے ذریعے لوگوں کے درمیان صلح کروا دے؟ تو وہ سفر پر آگے بڑھنے لگیں اور واپس نہیں لوٹیں ۔
پھر یہ کہ حدیث میں سفر سے صراحتاً نہیں روکا گیا جو اجتہاد کے منافی ہوتا۔ لہٰذا اگر نہی موجود بھی ہوتی تو بھی حرام کا ارتکاب نہیں ہوا، کیونکہ انھوں نے اجتہاد کیا اور سفر پر وہ تب روانہ ہوئیں جب انھیں یقین ہو گیا کہ ان کے راستے میں مقام معہود نہیں آتا۔
اگر وہ واپسی کا ارادہ کر بھی لیتیں پھر بھی ان کے لیے واپس ہونا ممکن نہ ہوتا کیونکہ کوئی ہم سفر ان کی تائید نہ کرتا اور اس حدیث میں مذکورہ نہی کے بعد کچھ کرنے کا حکم نہیں ہے۔ تو اس میں کوئی شک نہیں وہ سفر پر اس لیے چل پڑیں کہ انھوں نے روٹھے ہوؤں کو منانے کا ارادہ کیا ہوا تھا اور جس کا حکم
[1] یحییٰ بن سعید بن فروخ ابو سعید تمیمی القطان، حافظ، امیر المومنین فی الحدیث۔ ۱۲۰ ہجری میں پیدا ہوئے۔ علم و عمل کے پہاڑ تھے۔ انھوں نے ہی اہل عراق میں علم حدیث کو رائج کیا۔ تمام ائمہ ان کو حجت مانتے تھے۔ ۱۹۸ ہجری میں وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی، ج ۹، ص: ۱۷۵۔ تہذیب التہذیب لابن حجر، ج ۶: ص: ۱۳۸۔)
[2] سیر اعلام النبلاء للذہبی، ج ۴، ص: ۲۰۰۔
[3] محمد بن طاہر بن علی ابو الفضل مقدسی المعروف بابن القسیرانی۔ ۴۴۸ ہجری میں پیدا ہوئے۔ امام، حافظ، کثیر السفر، سلفی العقیدۃ، ظاہری المذہب، ان کی تصنیفات میں سے ’’الموتلف و المختلف‘‘ و ’’الجمع بین رجال الصحیحین‘‘ ہیں ۔ ۵۰۷ ہجری میں وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء، ج ۱۹، ص: ۳۶۱۔ و تاریخ الاسلام للذہبی، ج ۳۵، ص: ۱۶۹۔)
[4] ذخیرۃ الحفاظ، ج ۴، ص: ۱۹۲۲۔
[5] العلل المتناہیۃ، ج ۲، ص: ۳۶۲۔
[6] العواصم من القواصم: ۱۲۸۔