کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 582
اس نیک عزم اور اس مبارک نیت کے ساتھ جب ان کا قافلہ عَیْن (چشمہ) حَوْأَب[1] پہنچا تو انھوں نے امن و سلامتی کے لیے اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھا اور واپسی کا ارادہ کیا۔ تاکہ وہ سارے معاملے سے یک بارگی علیحدہ ہو جائیں اور اس اندیشے سے کہ کہیں کوئی انھونی پیش نہ آ جائے۔
مسند احمد اور مستدرک حاکم میں روایت موجود ہے کہ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا جب بنو عامر کے چشموں کے پاس رات کو پہنچیں تو کتوں کے بھونکنے کی آواز آئی۔ انھوں نے پوچھا، یہ کون سا چشمہ ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ عین حوأب ہے۔ آپ نے فرمایا: مجھے یقین ہے کہ میں واپس چلی جاؤں گی۔ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے فرمایا تھا: تم میں سے کسی ایک کا کیا حال ہو گا جب اس پر حوأب کے کتے بھونکیں گے؟ تو زبیر رضی اللہ عنہ نے انھیں کہا: آپ واپس جانا چاہتی ہیں ؟ ممکن ہے اللہ عزوجل آپ کے ہاتھوں سے لوگوں کے درمیان صلح کرا دے۔[2]
امام ابن کثیر رحمہ اللہ اصل معاملے کی حقیقت واضح کرتے ہوئے اور ہمارے لیے حقیقت امر کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا:
’’تمام لوگ صلح پر متفق ہو گئے۔ جس نے اس اتفاق کو ناپسند کیا اس نے ناپسند کیا اور جو اس پر راضی ہوا وہ راضی ہوا۔ سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے علی رضی اللہ عنہ کی طرف یہ خبر بتانے کے لیے قاصد بھیجا کہ وہ صلح کے لیے آئی ہیں ۔ دونوں گروہوں کے لوگ خوش ہو گئے۔ سیّدنا علی رضی اللہ عنہ لوگوں کو خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے تو جاہلیت کے زمانہ، اس کی شقاوتوں اور اس کے اعمالِ بد کا تذکرہ کیا، پھر اسلام کا تذکرہ کیا اور اہل اسلام کی باہمی الفت و اجتماعیت کی تعریف کی اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب لوگوں کو خلافت ابی بکر رضی اللہ عنہ پر جمع کیا۔
[1] الحوأب: مکہ اور بصرہ کے درمیان پڑاؤ کا ایک مقام ہے۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر لابن الاثیر، ج ۱، ص: ۴۵۶۔)
[2] مسند احمد، ج ۶، ص: ۵۲، حدیث نمبر: ۲۴۲۹۹۔ مسند ابی یعلٰی، ج ۸، ص: ۲۸۲، حدیث نمبر: ۴۸۶۸۔ صحیح ابن حبان، ج ۱۵، ص: ۱۲۶، حدیث نمبر: ۶۷۳۲۔ مستدرک حاکم، ج ۳، ص: ۱۲۹۔
امام ذہبی رحمہ اللہ نے اس کی سند کو سیر اعلام النبلاء، ج ۲، ص: ۱۷۷ پر صحیح کہا اور البدایۃ و النہایۃ، ج ۶، ص: ۲۱۷ پر حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے لکھا۔ اس کی سند صحیحین کی شرط پر ہے اور مجمع الزوائد، ج ۷، ص: ۲۳۷ میں ہیثمی رحمہ اللہ نے لکھا: مسند احمد کی روایت کے سب راوی صحیح بخاری کے راوی ہیں ۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ، ج ۱، ص: ۸۴۷ پر لکھا ہے کہ اس کی سند بہت ہی صحیح ہے۔ اس کے تمام راوی کتب ستہ کے ثقہ اور ثبت ہیں ۔