کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 577
اس سے بات نہ کی۔[1]
اس موضوع پر شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے متفرق مقامات پر بہت کچھ لکھا، لیکن بطورِ تمثیل کچھ قارئین کی خدمت میں درج کیا جا رہا ہے ، اور خصوصاً جو سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق انھوں نے لکھا وہ بھی ہم ذکر کریں گے۔
وہ لکھتے ہیں : ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے درمیان جو تنازعات ہوتے رہے ہم ان کا معاملہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑتے ہیں اور سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے ہم اللہ تعالیٰ سے رحم اور اس کی رضا چاہتے ہیں ۔‘‘[2]
اب ہم دو عظیم اماموں کی عبارتیں نقل کرتے ہیں کیونکہ ان میں زیر بحث مسئلہ کے متعلق خصوصی راہنمائی ملتی ہے:
۱۔ابن المستوفی اربلی[3] نے کہا: ’’میں نے ارادہ کیا کہ امام زہد ابو مظفر خزاعی[4] کو ابن ابی دنیا کی کتاب ’’مقتل عثمان‘‘ سناؤں ، لیکن انھوں نے میری بات سے انکار کر دیا اور کہا: اگر ہم خود اس واقعہ کو دیکھتے تو بھی ہم اسے روایت نہ کرتے۔‘‘[5]
۲۔امام ابن دقیق العید شیخ الاسلام ابن تیمیہ کے ہم عصر[6] ہیں ۔ وہ کہتے ہیں : ’’صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے
[1] السنۃ للخلال، ج ۳، ص: ۵۰۱۔
[2] الفتوی الحمویۃ لابن تیمیۃ، ص: ۴۴۸۔ مجموع الفتاوی لابن تیمیۃ، ج ۵، ص: ۷۸۔ الفتاویٰ الکبری لابن تیمیۃ، ج ۶، ص: ۶۵۸۔ ج ۳، ص: ۴۴۵۔
[3] مبارک بن احمد بن مبارک، ابو البرکات اربلی علامہ، محدث۔ ۵۶۴ ہجری میں پیدا ہوئے۔ ادب، شعر، عربوں کے وقائع کے ماہر تھے۔ عابد، متقی تھے۔ قضائے اربل پر ایک مدت تک فائز رہے۔ ان کی مشہور تصنیف ’’تاریخ اربل‘‘ ہے۔ ۶۳۷ ہجری میں وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی، ج ۲۳، ص: ۴۹۔ الاعلام للزرکلی، ج ۵، ص: ۲۹۵۔)
[4] مبارک بن طاہر بن مبارک ابو مظفر الخزاعی، بغدادی صوفی، مقری۔ ۵۳۳ ہجری میں پیدا ہوئے۔ عابد و زاہد تھے اور قرآن کے ساتھ خصوصی لگاؤ تھا۔ شافعی المسلک تھے۔ رائے اور قیاس سے نفرت کرتے تھے۔ خوب جانچ کر احادیث کی سماعت کی۔ ۶۰۰ ہجری میں وفات پائی۔ (تاریخ اربل لابن المستوفی، ج ۱، ص: ۴۱۔ تاریخ الاسلام للذہبی، ج ۴۲، ص: ۴۸۲۔
[5] تاریخ اربل لابن المستوفی، ج ۱، ص: ۴۴۔
[6] محمد بن علی بن وہب ابو الفتح قشیری ابن دقیق العید۔ امام، فقیہ، محدث، شیخ الاسلام۔ ۶۲۵ ہجری میں پیدا ہوئے۔ اپنے ہم عصروں میں ذہین و فطین، وسیع علم رکھنے والے اور متقی مشہور تھے۔ قضاء مصر پر فائز رہے۔ ان کی مشہور تصانیف ’’الاقتراح‘‘ و ’’شرح عمدۃ الاحکام‘‘ ہیں ۔ ۷۰۲ ہجری میں فوت ہوئے۔ (طبقات الشافعیۃ لابن قاضی شہبہ، ج ۲، ص: ۲۲۵۔ شذرات الذہب لابن العماد، ج ۶، ص: ۵۔)