کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 573
واضح کرنا جوکہ ارکان اسلام میں سے ایک رکن ہے۔
ہاں ! سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا ان مسائل میں منفرد ہونے کا دعویٰ خالص جھوٹ ہے۔ چنانچہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے روزہ دار کے بوسے لینے والی حدیث روایت کی ہے۔[1]
سیّدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے حیض کے بارے میں وہ حدیث بھی روایت کی جس میں ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک چادر میں لیٹی ہوئی تھیں ۔[2]اور میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا نے حائضہ کے ساتھ لیٹنے کی حدیث روایت کی۔[3]
ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا نے حیض کے خون کا کپڑے پر لگ جانے کے بارے میں احادیث روایت کی ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اس کے سوال کا جواب بیان کیا ہے۔[4]
حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا نے اپنے شدید حیض کی شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ’’تم اسے روئی کے پھاہے سے بند کر دو۔‘‘[5]
البتہ اس رافضی کا یہ کہنا کہ ان احادیث کی روایت عائشہ رضی اللہ عنہا کی منقبت و فضیلت نہیں تو وہ ایسا اپنے حسد اور بغض کی وجہ سے کہہ رہا ہے اور ان احادیث کی روایت میں ان کی منقبت کے دو پہلو ہیں ۔
۱۔اللہ تعالیٰ نے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو جو صفات حمیدہ و محمودہ عطا فرمائی تھیں جیسے قوت حافظہ اور امانت کے ساتھ تبلیغ۔
[1] مسند احمد، ج ۶، ص ۳۲۰، حدیث نمبر: ۲۶۷۶۲۔ السنن الکبری للنسائی، ج ۲، ص ۲۰۳، حدیث نمبر: ۳۰۷۴۔ ابن عبدالبر نے التمھید، ج ۵، ص: ۱۲۱ پر لکھا: اس میں ایک راوی عبداللہ بن فروخ لیس بہ باس (وہ مقبول ہے) اور البانی رحمہ اللہ نے ارواء الغلیل، ج ۴، ص: ۸۳ پر لکھا اس کی سند مسلم کی شرط پر جید ہے۔
[2] صحیح بخاری، حدیث نمبر: ۲۹۸۔ صحیح مسلم، حدیث نمبر: ۲۹۸۔
[3] اسے بخاری نے ۳۰۳ اور مسلم نے ۲۹۴ نمبرات سے روایت کیا۔
[4] سنن ابی داود، حدیث نمبر: ۳۶۳۔ النسائی، ج ۱، ص: ۱۵۴۔ سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر: ۶۲۸۔ مسند احمد، ج ۶، ص: ۳۵۵، حدیث نمبر: ۲۷۰۴۳۔ سنن الدارمی، ج ۱، ص: ۲۵۶، حدیث نمبر: ۱۰۱۹۔ صحیح ابن حبان، ج ۴، ص ۲۴۰، حدیث: ۱۳۹۵۔ البیہقی، ج ۲، ص: ۴۰۷، حدیث نمبر: ۴۲۷۹۔ البانی رحمہ اللہ نے صحیح سنن ابی داود میں اس حدیث کو صحیح کہا۔
[5] سنن ترمذی، حدیث نمبر: ۱۲۸۔ سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر: ۵۱۶۔ مسند احمد، ج ۶، ص: ۳۸۱، حدیث نمبر: ۲۷۱۸۸۔ امام احمد، بخاری اور ترمذی رحمہم اللہ نے کہا: ’’حسن، صحیح‘‘ اور البانی رحمہ اللہ نے صحیح سنن ترمذی میں اسے حسن کہا۔