کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 570
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان خاص لمحات میں پیش آتا تھا۔
مرتضی حسینی اپنی بدنیتی ظاہر کرتے ہوئے لکھتا ہے: اس کا بیان کہ عائشہ رضی اللہ عنہا مردوں کو وہ سناتی تھیں جو ان کے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان راز کی باتیں تھیں اور جن کو بیان کرنا نامناسب ہے۔ جیسے بوسہ لینا، زبان چوسنا، بغیر انزال کے مردانہ عضو کا عورت کے زیریں جسم میں داخل کر دینا وغیرہ وغیرہ۔[1]
متعدد احادیث سے استدلال کرتے ہوئے۔ جیسے ’’جب ختنے مل جائیں تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔‘‘[2]
سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا: جب خاوند بیوی سے جماع کرے اور اسے انزال نہ ہو تو اس نے کہا: میں نے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے کیا پھر اس وجہ سے اکٹھے غسل کیا۔[3]
یہ حدیث کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے ہوتے تو اس کا بوسہ لے لیتے اور اس کی زبان چوس لیتے۔[4]
یہ حدیث کہ کبھی کبھار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو غسل جنابت کر لیتے اور میں ابھی تک نہ کر پاتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم آتے تو میں آپ کو اپنے ساتھ لپٹا لیتی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گرمی پہنچاتی۔[5]
[1] السبعۃ من السلف لمرتضی الحسینی، ص: ۱۶۰۔
[2] اس کی تخریج گزر چکی ہے۔
[3] سنن دار قطنی، ج ۱، ص: ۱۱۱۔ شرح معانی الآثار للطحاوی، ج ۱، ص: ۵۵۔ و البیہقی، ج ۱، ص: ۱۶۴حدیث نمبر: ۷۹۹۔سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا راوی حدیث ہیں ۔ دارقطنی نے کہا یہ مرفوع اور موقوف دونوں طرح سے مروی ہے اور ابن قطان نے اسے الوہم و الایہام، ج ۵، ص: ۲۶۸ پر صحیح کہا اور البانی رحمہ اللہ نے سلسلہ الاحادیث الصحیحۃ میں اس کی سند کو صحیح کہا، ج ۵، ص: ۹۶۔
[4] سنن أبی داؤد، حدیث نمبر: ۲۳۸۶۔ مسند احمد، ج ۶، ص ۱۲۳، حدیث نمبر: ۲۴۹۶۰۔ صحیح ابن خزیمۃ، ج ۳، ص: ۲۴۶۔ الکامل فی الضعفاء لابن عدی، ج ۶، ص: ۱۹۸۔ بیہقی، ج ۴، ص: ۲۳۴، حدیث نمبر: ۸۳۵۹۔ ابو داود نے اس کی سند کو ضعیف کہا اور ابن قطان نے الوہم و الایہام میں کہا ج ۳، ص: ۱۱۰ اس کی سند میں ابو یحییٰ مصدع الاعرج ضعیف ہے اور نووی نے المجموع، ج ۶، ص: ۳۱۸ میں کہا اس کی سند میں سعد بن اوس اور مصدع دونوں کی جرح اور توثیق میں اختلاف ہے اور ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری، ج ۴، ص: ۱۸۱ میں اس کی سند کو ضعیف کہا اور عینی نے عمدۃ القاری، ج ۱۱، ص: ۱۳ میں اسے ضعیف کہا اور یہ کہ ((یَمُصُّ لِسَانَہَا)) کے الفاظ غیر محفوظ ہیں اور زیلعی نے نصب الرایۃ، ج ۴، ص: ۲۵۳ میں اسے سند کو ضعیف کہا اور البانی رحمہ اللہ نے ضعیف سنن ابی داود، حدیث نمبر: ۲۳۸۶ میں اسے ضعیف کہا۔
[5] سنن ترمذی، ۱۲۳۔ مسند ابی یعلی، ج ۸، ص ۲۶۰، حدیث نمبر: ۴۸۴۶۔ سنن دار قطنی، ج ۱، ص: ۱۴۳۔ امام ترمذی نے کہا: اس کی سند ٹھیک ہی ہے۔ ابن العربی نے عارضۃ الاحوذی، ج ۱، ص: ۱۶۸ پر لکھا یہ صحیح نہیں اور ابن دقیق العید نے الامام، ج۳، ص: ۸۱ میں کہا یہ مسلم کی شرط پر ہے اور البانی رحمہ اللہ نے اسے ضعیف سنن ترمذی، ۱۲۳ میں ضعیف کہا۔