کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 566
یہ نہایت خطرناک تدلیس اور سازش کی تخطیط ہے اس کی آڑ میں وہ جو مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے وہ یوں ہیں :
۱۔یہ کہ اپنی رائے کو راجح بنانے کا مأخذ عائشہ رضی اللہ عنہا کا سیاسی مأخذ ہے۔
۲۔یہ کہ اس وجہ سے اس نے روایات اور احادیث وضع کیں اور ان کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کر دی تاکہ اسے اپنی رائے کی حمایت مل جائے جس طرح کہ ابو ریہ نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ پر یہی تہمت لگائی۔[1]
۳۔یہ کہ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے مخالف قول ۔اس کے بقول۔ کی تاویل کرتی ہیں ۔
۴۔یہ کہ وہ سنت کی محافظ نہیں ۔
یہ تمام بہتانات ہیں ہر زمانے کے صالحین نے ان بہتانات کا جواب دیا ہے اور امہات المومنین کو حق پر ثابت کیا اور آئندہ صفحات میں مرتضی کی موشگافیوں کا ردّ کیا جائے گا۔
اوّل:.... مرتضی کے قول کا مفہوم یہ ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ رائے فتنہ (قتل عثمان رضی اللہ عنہ ) کے بعد قائم کی۔ یہ سراسر غلط بات ہے کیونکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان اختلاف اس سے پہلے بھی موجود تھا۔ جیسا کہ عمر رضی اللہ عنہ کی طرف رائے منسوب کی جاتی ہے۔[2]یہ عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت سے پہلے ظاہر ہوئی۔ اس طرح مرتضی نے جو توجیہ پیش کی ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو سوال کرنے والوں سے ملاقات کی ضرورت تھی یا پیش آنے والے فتنوں کا اس کی رائے پر اثر تھا۔ درج بالا بحث سے اس کی یہ رائے اور توجیہ ختم ہو گئی۔
دوم:.... پانچ بار رضاعت سے حرمت کے ثبوت والی روایت سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں صحیح مسلم میں موجود ہے۔ قرآن میں دس بار رضاعت سے حرمت کا ثبوت نازل ہوا تھا۔ پھر ان میں سے پانچ بار رضاعت منسوخ ہو گئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب وفات پائی تو قرآن میں ان کی تلاوت کی جاتی تھی۔[3]
[1] عجیب بات ہے کہ ابو ریہ نے اس مرتضی عسکری کی کتاب کی تقریظ لکھی ہے اور ابو ہریرہ و عائشہ رضی اللہ عنہا کثرت سے روایت کرنے والوں میں سے ہیں اور اس طرح کی تہمتوں کا ان دونوں کو نشانہ بنانے سے اسلام کی اکثر احادیث ضائع ہو جائیں گی۔ لیکن علامہ معلمی رحمہ اللہ نے اپنے زمانے کے علماء و عامۃ المسلمین کی طرف سے یہ قرض چکا دیا اور ابو ریہ کا بھرپور ردّ کیا۔ اب مرتضی کے جھوٹ کا پول کھولنا باقی ہے جو اس نے ام المومنین پر بہتانات لگائے ہیں ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ وہ علماء اور طلاب علم کو اس کی توفیق دے۔
[2] مصنف عبدالرزاق، ج ۷، ج: ۴۵۸ میں آراء الصحابہ و التابعین کامطالعہ کریں ۔
[3] صحیح مسلم، حدیث نمبر: ۱۴۵۲۔