کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 563
جائز ہیں ۔[1]
یہ کہ انھیں دونوں کا اختیار ہے۔ چنانچہ انھوں نے اتمام کو کامل طور پر عبادت کرنے کے لیے اختیار کیا اور قصر کے متعلق انھوں نے سوچا کہ یہ سفر کی مشقت کے دوران ہے، جبکہ انھیں کوئی مشقت نہیں اٹھانا پڑتی۔ عروہ نے ان سے عرض کیا: اگر آپ دو رکعتیں پڑھ لیں ؟ تو سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اے میرے بھانجے! بے شک اس سفر میں مجھ پر کوئی مشقت نہیں ۔[2]
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھتے ہیں :
’’ان کا یہ اس بات پر قول دلالت کرتا ہے کہ انھوں نے یہ تاویل کی کہ قصر رخصت ہے اور جس کا سفر پُرمشقت نہ ہو اس کے لیے اتمام افضل ہے۔‘‘[3]
دوم:.... سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے قصر کا کبھی صراحتاً یا کنایتاً انکار نہیں کیا بلکہ انھوں نے دیکھا کہ جب سفر باعث مشقت نہ ہو تو اتمام افضل ہے۔ اس لیے انھوں نے عروہ کو اتمام کا حکم نہیں دیا جب انھوں نے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دو دو رکعتیں نہ پڑھنے کے بارے میں سوال کیا۔[4]
سوم:.... ہم گزشتہ صفحات میں سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی وسعت علم کے متعلق سیر حاصل بحث کر چکے ہیں ۔[5]
یہ کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جو بھی مشکل پیش آتی اس کے حل کے لیے وہ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے رجوع کرتے۔ جس سے ہر محقق کے لیے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اہل اجتہاد میں سے تھیں اور اگر مجتہد اپنے اجتہاد میں صحیح ہو تو اسے دو اجر ملیں گے اور اگر وہ اجتہاد میں غلطی کرے تو اسے ایک اجر ملتا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث صحیح میں یہ ثابت ہے۔[6]مجتہد کے لیے یہ شرط نہیں کہ وہ کبھی
[1] شرح مسلم للنووی، ج ۵، ص: ۱۹۵۔
[2] النسن الکبری للبیہقی، ج ۳، ص: ۱۴۳۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے کہا کہ اس کی سند صحیح ہے۔ (فتح الباری، ج ۲، ص: ۵۷۱۔)
[3] فتح الباری لابن حجر، ج ۲، ص: ۵۷۱۔
[4] عمدۃ القاری للعینی، ج ۷، ص: ۱۳۵۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے بھانجے! تم مجھ پر مشقت نہ ڈالو۔ یہ دلیل ہے کہ انھوں نے قصر کی تاویل کی، اس کا انکار نہیں کیا اور ان کی یہ تاویل قصر، وجوب قصر کے منافی نہیں ۔ حالانکہ ان کا انکار بھی صراحتاً نقل نہیں کیا گیا۔
[5] گزشتہ صفحات کا مطالعہ کیا جائے۔
[6] صحیح بخاری، حدیث نمبر: ۷۳۵۲۔ صحیح مسلم، حدیث نمبر: ۴۵۸۴۔