کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 562
متروک الحدیث ہے۔ مزید برآں یہ مرسل بھی ہے۔[1]
دوسري روایت:.... اس کی سند میں ہشام کلبی ہے جو شیعی کذاب ہے۔ اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق من گھڑت افسانے بنانے میں مشہور ہے۔ اس کے بارے میں امام احمد رحمہ اللہ نے لکھا۔
’’یہ شب بیدار اور عالم انساب تھا۔ میں نہیں سمجھتا کہ اس سے کسی ایک نے حدیث لی ہو۔‘‘
ابن معین نے کہا: ’’یہ غیر ثقہ ہے اور اس جیسے سے حدیث روایت ہی نہیں کی جاتی۔‘‘
ابن عساکر نے کہا:’’رافضی ہے ثقہ نہیں ہے۔‘‘
دارقطنی وغیرہ نے کہا: ’’یہ متروک ہے۔‘‘[2]
چھٹا شبہ:
شیعہ کہتے ہیں کہ ’’سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نماز میں تبدیلی کی اور سفر میں پوری نماز پڑھی۔‘‘[3]
صحیح بخاری و صحیح مسلم میں سفر کے دوران پوری نماز پڑھنے کے بارے میں سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی اپنی رائے یوں درج ہے جو زہری کی روایت سے ہے کہ اس نے عروہ سے پوچھا:
’’عائشہ پوری نماز کیوں پڑھتی تھی؟
تو اس نے کہا: جس طرح سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے تاویل کی تھی، اس نے بھی وہی تاویل کر لی۔‘‘[4]
اس شبہے کا چار وجوہ سے جواب دیا جائے گا:
اوّل:.... اس میں سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر الزام لگانے کی کوئی وجہ نہیں چونکہ ان کی رائے کی مناسبت میں متعدد اقوال مروی ہیں ۔ جن میں سے اکثر تحقیق کے معیار پر پورے نہیں اترتے۔[5]
صحیح تر رائے یہ ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اجتہاد کیا اور یہ رائے قائم کی کہ سفر میں قصر اور اتمام دونوں
[1] الضعفاء و المتروکون للنسائی، ص: ۹۲۔ الضعفاء و المتروکین لابن جوزی، ج ۳، ص: ۱۷۵۔
[2] لسان المیزان لابن حجر، ج ۶، ص: ۱۹۶۔
[3] ثم اہتدیت تیجانی سماوی ، ص: ۱۳۔ اس کے رد میں جو کتاب لکھی گئی: ’’الانتصار للصحب و الآل من افتراء ات السماوی الضال للرحیلی، ص: ۲۷۳۔)
[4] صحیح بخاری، حدیث نمبر: ۱۰۹۰۔ صحیح مسلم، حدیث نمبر: ۶۸۵۔
[5] حافظ ابن عبدالبر لکھتے ہیں کچھ لوگوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے ’’اتمام الصلوۃ فی السفر‘‘ کی تاویل میں اپنی طرف سے کچھ اقوال نقل کیے ہیں جو خود اس سے تو مروی نہیں بلکہ وہ لوگوں کے ظن و تخمینے اور تاویلات ہیں کسی کے ساتھ کوئی دلیل نہیں ۔ (التمھید لابن عبدالبر، ج ۱۱، ص: ۱۷۱۔)