کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 561
تو وہ اضافی جملے جن کے ساتھ روافض سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو مطعون کرتے ہیں وہ ابن سعد نے روایت کیے۔[1] لیکن یہ اضافی جملے فضول اور بے وزن ہیں ۔ مختلف الفاظ کے ساتھ مروی ہیں ۔ اکثر علماء نے ان کو ضعیف قرار دیا ہے۔ ان کا دار و مدار واقدی پر ہے اور وہ کذب میں مشہور ہے۔ پھر یہ کہ ابن سعد نے یہ روایت کرنے کے بعد کہا: محمد بن عمر نے کہا: اس حدیث کو ضعیف کرنے والی علتوں میں سے ایک یہ ہے کہ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے کہا: کیا تو شرماتی نہیں ؟ جبکہ اس سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عائشہ رضی اللہ عنہا تھی ہی نہیں ۔ ابن صلاح[2]نے کہا: ’’مجھے اس اضافے کی کوئی اصل ثابت نہیں ملی۔ اصل حدیث صحیح بخاری میں ہے لیکن ان بعید از عقل اضافوں کے بغیر ہے ۔‘‘[3] علامہ نووی رحمہ اللہ نے لکھا: ’’اس اضافے کی کوئی اصل صحیح نہیں اور وہ اسناد کے لحاظ سے اور معنوی طور پر نہایت ضعیف ہے اور واقدی کے کاتب محمد بن سعد نے اپنی کتاب ’’الطبقات‘‘ میں اسے ضعیف اسناد کے ساتھ روایت کیا۔‘‘[4] حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا: ’’اس کی سند میں واقدی ہے جو ضعف کی وجہ سے معروف ہے۔‘‘[5] نیز اس میں ابو معشر المدنی بھی ہے۔ اسے ابن معین، نسائی، دار قطنی وغیرہم نے ضعیف کہا اور امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے ’’منکر الحدیث‘‘ کہا۔ ابن معین نے کہا: اس کی حدیث کوئی چیز نہیں ۔ نسائی نے کہا: یہ
[1] الطبقات الکبری لابن سعد، ج ۸، ص: ۱۴۵۔ [2] عثمان بن عبدالرحمن بن عثمان ابو عمر شہرزوری شافعی۔ علم و دین کے اعتبار سے ائمہ مسلمین میں سے ایک امام ہیں ۔ ۵۷۷ ہجری میں پیدا ہوئے۔ مذہب شافعی پر عبور حاصل کیا۔ علوم حدیث، اصول فقہ اور تفسیر میں اتقان حاصل کیا۔ ان کی تصنیفات میں سے ’’معرفۃ انواع علم الحدیث‘‘ مشہور ہے۔ ۶۴۳ ہجری میں فوت ہوئے۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی، ج ۲۳، ص: ۱۴۰۔ طبقات الشافعیۃ الکبری للسبکی، ج ۸، ص: ۳۲۶۔) [3] البدر المنیر لابن الملقن، ج ۷، ص: ۴۱۳۔ [4] تہذیب الاسماء و اللغات للنووی، ج ۴، ص: ۵۱۔ [5] التلخیص الحبیر لابن حجر، ج ۳، ص: ۲۸۱۔ السلسلۃ الضعیفۃ للالبانی: ۲۲۴۴۔