کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 559
جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت پر حرف ہے اور جسے لکھنے یا بیان کرنے کی سکت نہیں ۔‘‘
ان کا یہ شبہ مصنف ابن ابی شیبہ کی اس حدیث سے پیدا ہوا ہے جو اس نے اپنی سند کے ساتھ عمار بن عمران کے واسطے سے جو بنی زید اللہ کا ایک فرد ہے اپنے خاندان کی ایک عورت کے واسطے سے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ اس نے ایک لڑکی کو مزین[1]کیا اوراس کے ساتھ گھومنے گئے اور کہا: شاید ہم اس طریقے سے قریشی نوجوان کا شکار کریں۔[2]
درج بالا شبہے کا جواب:
یہ کہ اس روایت کا دار و مدار ایک مجہول راوی پر ہے اور وہ ایک عورت ہے جس نے یہ مصیبت کھڑی کی ہے اور محدثین کے نزدیک یہ سند سب سے کمزور ہے۔
نیز عمار بن عمران کے متعلق ذہبی نے کہا اس کی حدیث صحیح نہیں ۔ بخاری نے اسے ضعفاء میں شمار کیا۔[3] حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لسان المیزان میں اس کی تائید کی۔[4]
گویا اس روایت میں ایک راوی مجہول اور ایک ضعیف ہے، لہٰذا اسے دلیل نہیں بنایا جا سکتا۔ یہ تو رہا روایت اور درایت کے اعتبار سے۔
پانچواں شبہ:
یہ کہ ’’ابنۃ الجون اسماء بنت نعمان[5] اور ملیکہ بنت کعب[6] دونوں کے ساتھ عائشہ رضی اللہ عنہا نے دھوکا
[1] شوفت: یعنی بناؤ سنگھار کیا۔ شَوَّفَ، شَیَّفَ تَشَوَّفَ ایک ہی معنی میں آتے ہیں ۔ یعنی تزین اور تَشَوَّفَ لِشَیْئٍ۔ یعنی اس کی طرف نگاہیں جما دیں ۔ (غریب الحدیث للحربی، ج ۲، ص: ۸۱۷۔ الدلائل فی غریب الحدیث لقاسم السرقسطی، ج ۳، ص: ۱۱۲۹۔ النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر لابن الاثیر، ج ۲، ص: ۵۰۹۔)
[2] مصنف ابن ابی شیبہ، ج ۴، ص: ۴۱۰۔ ابن قطان نے احکام النظر، ۴۰۲ پر کہا یہ صحیح نہیں ۔
[3] میزان الاعتدال للذہبی، ج ۳، ص: ۱۶۶۔
[4] لسان المیزان لابن حجر، ج ۴، ص: ۲۷۲۔
[5] اسماء بنت نعمان بن جون الکندیہ۔ علماء کا اجماع ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی زوجیت میں لے لیا۔ البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی جدائی کے قصے میں علماء کا اختلاف ہے اپنے زمانے کی حسین و جمیل دوشیزہ تھی۔ تقریبا ۳۰ ہجری میں فوت ہوئی۔ (الاستیعاب لابن عبدالبر، ج ۲، ص: ۷۶۔ سیر اعلام النبلاء للذہبی، ج ۲، ص: ۲۵۷۔)
[6] ملیکہ بنت کعب کنانی رضی اللہ عنہا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی زوجیت میں لیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ساتھ خلوت نہیں فرمائی۔ کچھ علماء کہتے ہیں کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فوت ہوئی اور کچھ کہتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے طلاق دی۔ یہ حسن و جمال کا پیکر تھی۔ (الاصابۃ لابن حجر، ج ۸، ص: ۱۲۳۔ سبل الہدی و الرشاد لمحمد بن یوسف صالحی، ج ۱۱، ص: ۲۳۰۔)