کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 556
اور بلند اخلاق کا اعلیٰ نمونہ تھیں ۔
یہ سیّدہ معاذہ ہیں جو سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث روایت کرتی ہیں کہ تم عورتیں اپنے خاوندوں کو پانی سے استنجاء کرنے کا حکم دو کیونکہ مجھے ان کو کہتے ہوئے شرم آتی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح کیا کرتے تھے۔[1]
مثلاً ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس عورتیں اکٹھی ہوتیں اور وہ انھیں نماز کی امامت کرواتیں ۔[2] یا ہماری امی جان عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آ جاتی تھیں ۔[3]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے گھرانے علم، عبادت اور فقہ کے گھر تھے۔ وہ سائلین سے دُور نہیں تھے، یا راہنمائی کے لیے آنے والوں سے دُور نہیں تھے۔ وہ ایسے معاشرے میں تھے جس میں علم کی کرنیں چہار سو پھیلی ہوئی تھیں اور وہ دین سے محبت کرنے والا معاشرہ تھا اور خیر و ہدایت اس کی منزل مقصود تھی۔
جب یہ ثابت ہو چکا اور یہی صحیح ہے کہ ہماری امی جان شریعت اور تفہیم دین کے لحاظ سے ایک بلند مقام کی مالک تھیں اور جیسا کہ ہمیں معلوم ہو چکا ہے وہ شرم و حیا او رعفت و عصمت کا پیکر تھیں ہم نے اس روایت کے وہی معانی بیان کیے ہیں جو اس ذات کریمہ کو لائق تھے اور اس خباثت اور غلاظت سے ہمیں کوئی واسطہ نہیں جو روافض اور ان کے ہم نوا اپنے بیمار دلوں اور ذہنوں کی وجہ سے پھیلاتے رہتے ہیں کہ وہ ایک ایسی عورت تھی جو غیر محرم مردوں کے سامنے کپڑے اتار کر غسل کرتی تھیں ۔ شرم و حیا اور ستر و حجاب کی اسے کوئی ضرورت نہ تھی۔ ایسی رذالت تو عام مومن عورت کو بھی زیب نہیں دیتی جو پاک دامن طاہرہ طیبہ اور
[1] سنن ترمذی، حدیث نمبر: ۱۹۔ سنن النسائی، ج ۱، ص: ۴۲۔ مسند احمد، ج ۶، ص: ۹۵، حدیث نمبر: ۲۴۶۸۳۔ مسند ابی یعلی، ج ۸، ص: ۱۲۔ صحیح ابن حبان، ج ۴، ص: ۲۹۰، حدیث نمبر: ۱۴۴۳ و ۴۵۱۴۔ بیہقی، ج ۱، ص: ۱۰۵، حدیث نمبر: ۵۲۶۔ ترمذی نے کہا حسن صحیح ہے۔ عبدالحق اشبیلی نے ’’الاحکام الصغریٰ‘‘ حدیث نمبر: ۱۰۳ میں اس کی سند کو صحیح کہا اور ابن قدامہ نے ’الکافی‘‘، ج ۱، ص: ۵۲ میں حدیث کو صحیح کہا اور نووی نے ’’المجموع‘‘ ج ۲، ص، ۱۰۱ پر حدیث کو صحیح کہا۔ ابن دقیق العید نے ’’الامام‘‘ ج ۲، ص: ۵۳۷ میں کہا اس حدیث کے سب راوی صحیحین کی شرط پر ثقہ ہیں اور شیخ البانی رحمہ اللہ نے صحیح سنن ترمذی میں اسے صحیح کہا۔
[2] مصنف عبدالرزاق، ج ۳، ص: ۱۴۰۔ حجیرہ بنت حصین سے مروی ہے۔ مصنف ابن ابی شیبۃ، ج ۲، ص: ۸۸۔ ام حسن سے مروی ہے۔ شیخ البانی رحمہ اللہ نے تمام المنۃ: ۱۵۴ میں کہا اس کی سند صحیح ہے اور اس کے سب راوی معروف ثقات ہیں جو شیخان کے راویوں سے ہیں ۔ سوائے ام حسن کے۔
[3] یہ حدیث عبدالرزاق نے روایت کی: ۵۰۸۷۔ حاکم، ج ۱، ص: ۳۲۰۔ بیہقی، ج ۱، ص: ۴۰۸، حدیث نمبر: ۱۹۹۸ پر روایت کی۔ علامہ ذہبی نے کہا: اس کی سند میں ایک راوی لیث کمزور ہے۔