کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 553
انھیں اجر ہی ملے گا اور جب انھیں آزاد کر دیا گیا تو ان کے آگے فوراً پردہ لٹکا دیا۔ جیسا کہ حدیث کے الفاظ ہیں : انھوں نے میرے آگے پردہ لٹکا دیا اس دن کے بعد میں نے انھیں نہیں دیکھا۔[1]
کتب سنت میں اس کے شواہد بے شمار ہیں ۔ سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لیے ایک غلام لائے۔ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہبہ کر دیا تھا۔ سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا پر ایک کپڑا تھا اگر وہ اس کے ساتھ اپنا سر ڈھانپتی تو وہ ان کے پاؤں تک نہ پہنچتا تھا اور اگر اس کے ساتھ پاؤں ڈھانپتیں تو وہ ان کے سر تک نہ پہنچتا تھا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مشکل دیکھی تو فرمایا:
((اِنَّہٗ لَیْسَ عَلَیْکِ بَاْسٌ، اِنَّمَا ہُوَ اَبُوْکِ وَ غُلَامُکِ))
’’تم پر کوئی حرج نہیں کیونکہ یہاں تمہارا باپ اور تمہارا غلام ہیں ۔‘‘[2]
اکثر علمائے اہل سنت غلام کے لیے اپنی مالکن کو دیکھنا جائز قرار دیتے ہیں ۔ ’’شرح مختصر خلیل‘‘ میں لکھا ہوا ہے: ’’جو غلام بغیر کسی شریک کے ہو اور جو قسط وار اپنی آزادی کے لیے ادائیگی کے مرحلے میں ہو اور بد صورت ہو تو وہ اپنی مالکن کے بالوں اور اس کے ہاتھوں اور پاؤں وغیرہ کو دیکھ سکتا ہے۔ جو کچھ عورت کے محرم اس سے دیکھ سکتے ہیں اور خلوت میں بھی اس کے ساتھ جا سکتا ہے۔ ابن ناجی کا یہی قول مشہور ہے۔ بشرطیکہ وہ غلام مکمل طور پر مذکورہ مالکن کا ہو۔‘‘[3]
روافض خود بھی یہی کہتے ہیں کہ عورت پر غلام سے حجاب واجب نہیں صرف اس صورت میں کہ وہ اپنی آزادی کی قیمت ادا کر چکا ہو۔
چنانچہ یوسف البحرانی[4] نے کہا معاویہ بن عمار سے دو سندوں کے ساتھ روایت ہے، ان میں سے
[1] سندی نے کہا اس کی بنیاد یہ ہے کہ مکاتب پر جب ایک درہم بھی باقی ہو تو وہ بہرحال غلام ہوتا ہے اور شاید وہ عائشہ کے کسی قریبی کا غلام تھا اور وہ سمجھتی تھیں کہ غلام اپنی مالکن اور اس کے رشتہ داروں کے پاس آ سکتا ہے اور بہتر علم اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے۔ (حاشیہ السندی علی النسائی، ج ۱، ص: ۷۳۔)
[2] سنن ابو داود، حدیث نمبر: ۴۱۰۶۔ الاحادیث المختارہ لضیاء المقدسی، حدیث نمبر: ۱۷۱۲۔ سنن کبری للبیہقی، ج ۷، ص: ۹۵، حدیث نمبر: ۱۳۹۲۹۔ اس حدیث کو ابن القطان نے احکام النظر، ۱۹۶ میں صحیح کہا۔ ضیاء المقدسی نے السنن و الاحکام، ج ۵، ص: ۱۰۷ پر کہا مجھے اس کی سند میں کوئی نقص معلوم نہیں اور علامہ ذہبی رحمہ اللہ نے المہذب، ج ۵، ص: ۲۶۷۱ میں اور ابن الملقن نے البدر المنیر، ج ۷، ص: ۵۱۰ میں اس کی سند کو جید کہا اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحیح سنن ابی داود میں اسے صحیح کہا۔
[3] شرح مختصر خلیل للخرشی، ج ۳، ص: ۲۲۱۔
[4] یوسف بن احمد بن ابراہیم الدرازی البحرانی امامیہ شیعہ کا فقیہ شمار ہوتا ہے۔ ۱۱۰۷ ہجری میں پیدا ہوا۔ اس کی تصنیفات میں سے ’’الحدائق الناضرۃ‘‘ اور ’’انیس المسافر‘‘ زیادہ مشہور ہیں ۔ ۱۱۸۶ ہجری میں فوت ہوا۔ (الاعلام للزرکلی، ج ۸، ص: ۲۱۵۔)