کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 546
’’وہاں زلزلے اور فتنے ہیں اور وہیں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوتا ہے۔‘‘ صحیح مسلم میں یہ روایت سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ [1] سے مروی ہے، وہ کہتے تھے: اے اہل عراق! میں کسی صغیرہ گناہ کے بارے میں تم سے سوال نہیں کروں گا اور نہ میں تمھیں کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کرنے کی ترغیب دوں گا اور نہ دیتا ہوں ۔ میں نے اپنے باپ عبداللہ بن عمر رضی ا للہ عنہما کو کہتے ہوئے سنا ، وہ فرمارہے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ((اِنَّ الْفِتْنَۃَ تَجِیْئُ مِنْ ہَاہُنَا وَ اَوْمَاَ بِیَدِہٖ نَحْوَ الْمَشْرِقِ مِنْ حَیْثُ یَطْلُعُ قَرْنَا الشَّیْطَانِ، وَ اَنْتُمْ یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ)) [2] ’’بے شک فتنہ یہاں سے آئے گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی جانب اشارہ کیا جہاں سے شیطان کے دونوں سینگ طلوع ہوتے ہیں اور تم آپس میں ایک دوسرے کی گردنیں مارو گے۔‘‘ حدیث نمبر ۵:.... سیّدنا ابو مسعود[3]رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اَلْاِیْمَانُ ہَاہُنَا وَ اَشَارَ بِیَدِہٖ اِلَی الْیَمَنِ وَ الْجِفَائُ وَ غِلَظُ الْقُلُوْبِ فِی الْفَدَّادِیْنَ[4]عِنْدَ اُصُوْلِ اَذْنَابِ الْاِبِلِ مِنْ حَیْثُ یَطْلَعُ قَرْنَا الشَّیْطَانِ، رَبِیْعَۃَ، وَ مُضَرَ۔))[5] ’’ایمان یہاں ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کی طرف اشارہ کیا اور جفا اور دلوں کی سختی
[1] سالم بن عبداللہ بن عمر۔ ابو عمر القرشی العدوی۔ فقیہ، حجہ، امام، زاہد، حافظ، مفتی المدینہ، یہ ان لوگوں میں سے تھے جنھوں نے علم و عمل اور زہد و شرف کو اکٹھا کیا۔ مدینہ منورہ کے فقہاء السبعہ میں سے ایک ہیں ۔ ۱۰۶ یا ۱۰۸ ہجری میں وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی، ج ۴، ص: ۴۵۷۔ تہذیب التہذیب لابن حجر، ج ۲، ص: ۲۵۵۔ ) [2] صحیح مسلم، حدیث نمبر: ۲۹۰۵۔ [3] عقبہ بن عمرو بن ثعلبہ ابو مسعود البدری جلیل القدر صحابی ہیں جو لوگ بیعت عقبہ میں حاضر تھے ان میں سب سے کم عمر یہی تھے۔ تقریباً سارے غزوات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں شریک ہوئے۔ سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کے مویدین میں سے تھے۔ ایک بار علی رضی اللہ عنہ نے انھیں کوفہ میں اپنا نائب بنایا۔ تقریباً ۴۰ ہجری میں وفات پائی۔ (الاستیعاب لابن عبد البر، ج ۱، ص: ۳۳۰۔ الاصابۃ لابن حجر، ج ۴، ص: ۵۲۴۔) [4] اَلْفَدَّادُوْنَ: جو کھیتوں میں کام کرتے ہوئے اپنے مویشیوں کو بلند آواز سے ہانکتے ہیں ۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر لابن الاثیر، ج ۳، ص: ۴۱۹۔) [5] صحیح بخاری، حدیث نمبر: ۴۳۸۷۔ صحیح مسلم، حدیث نمبر: ۵۱۔