کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 545
آپ عائشہ رضی اللہ عنہا کے دروازے کے پاس کھڑے ہوئے تھے:
((فَاَشَارَ بِیَدِہٖ نَحْوَ الْمَشْرِقِ، فَقَالَ: اَلْفِتْنَۃُ ہَاہُنَا، حَیْثُ یَطْلَعُ قَرْنُ الشَّیْطَانِ۔))
’’ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تقریباً مشرق کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ’’یہاں فتنہ ہے جہاں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوتا ہے۔‘‘[1]
حدیث نمبر ۳:.... ابن عمر رضی ا للہ عنہما کی ایک اور روایت میں ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ہاتھ عراق کی جانب اشارہ کرتے ہوئے دیکھا (آپ فرما رہے تھے):
((ہَا، اِنَّ الْفِتْنَۃَ ہَاہُنَا، ہَا، اِنَّ الْفِتْنَۃَ ہَاہُنَا، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ مِنْ حَیْثُ یَطْلَعُ قَرْنُ الشَّیْطَانِ۔))
’’خبردار! بے شک فتنہ یہاں ہے۔ خبردار! بے شک فتنہ یہاں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا۔ جہاں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوتا ہے۔‘‘[2]
حدیث نمبر ۴:.... سیّدنا عبداللہ بن عمر رضی ا للہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نصیحت کی اور فرمایا:
((اَللّٰهُمَّ بَارِکْ لَنَا فِی شَامِنَا وَفِی یَمَنِنَا قَالَ قَالُوا وَفِی نَجْدِنَا قَالَ، قَالَ اللّٰہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِی شَامِنَا وَفِی یَمَنِنَا قَالَ قَالُوا وَفِی نَجْدِنَا قَالَ قَالَ ہُنَاکَ الزَّلَازِلُ وَالْفِتَنُ وَبِہَا یَطْلُعُ قَرْنُ الشَّیْطَانِ)) [3]
’’اے اللہ! تو ہمارے شام میں برکت ڈال، اے اللہ تو ہمارے یمن میں برکت ڈال۔‘‘ سامعین نے کہا: اور ہمارے نجد میں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اے اللہ! تو ہمارے شام میں برکت ڈال، اے اللہ تو ہمارے یمن میں برکت ڈال۔‘‘ سامعین نے کہا: اے اللہ کے رسول ! اور ہمارے نجد میں ؟ بقول راوی میرے گمان کے مطابق تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
[1] صحیح مسلم، حدیث نمبر: ۲۹۰۵۔ ابن عمر رضی ا للہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیّدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے دروازے کے پاس کھڑے ہو کر اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ فرما رہے تھے: ’’فتنہ یہاں ہے جہاں سے سورج طلوع ہوتا ہے۔‘‘ آپ نے یہ بات دو یا تین بار ارشاد فرمائی۔ عبیداللہ بن سعد نے اپنی روایت میں کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے دروازے کے پاس کھڑے تھے۔
[2] مسند احمد، ج ۲، ص: ۱۴۳، حدیث نمبر: ۶۳۰۲۔ احمد شاکر نے ’’تحقیق المسند‘‘ میں ج ۹، ص: ۱۰۵ پر اس کی سند کو صحیح کہا ہے اور شعیب ارناؤوط نے تحقیق ’’مسند احمد‘‘ میں اسے صحیح کہا اور اس نے کہا یہ شیخان کی شرط پر ہے۔
[3] صحیح بخاری، حدیث نمبر: ۷۰۹۴۔