کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 538
پاک کرنا۔ ‘‘[1]
عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی ﴿ إِنَّمَا يُرِيدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا﴾تو آپ (میری والدہ) ام سلمہ کے گھر میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ، حسن اور حسین رضی اللہ عنہم کو بلایا اور ان کو چادر سے ڈھانپ دیا اور علی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ پیچھے تھے۔ ان سب کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چادر سے ڈھانپ دیا۔ پھر فرمایا: ’’اے اللہ! یہ میرے گھر والے ہیں تو ان سے نجاست دُور کر دے اور ان کو پاک کر دے اچھی طرح پاک کرنا۔‘‘ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! کیا میں بھی ان کے ساتھ ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم اپنی جگہ پر رہو اور تم بھلائی پر ہو۔‘‘[2]
سیّدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے علی، حسن، حسین اور فاطمہ رضی اللہ عنہم پر چادر ڈال دی اور فرمایا: اے اللہ! یہ میرے گھر والے اور میرے خاص لوگ ہیں ۔ تو ان سے نجاست دُور کر دے اور ان کو اچھی طرح پاک کر دے، ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں بھی ان کے ساتھ ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تو نیکی کی طرف گامزن ہے۔‘‘[3]
اس معنی کا احتمال بھی ہے کہ تم بھلائی پر ہو اور تم اپنی جگہ رہو۔ یعنی تم تو میرے اہل بیت میں سے ہو اور تمھیں چادر کے نیچے آنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں علی رضی اللہ عنہ کی موجودگی کی
[1] اس کی تخریج گزر چکی ہے۔
[2] سنن الترمذی، حدیث نمبر: ۳۲۰۵۔ طبرانی، ج ۹، ص ۲۵، حدیث نمبر: ۸۳۱۱۔ امام ترمذی نے کہا: یہ غریب ہے اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح سنن ترمذی میں صحیح کہا۔
[3] سنن الترمذی: ۳۸۷۱۔ مسند أحمد، ج ۶، ص: ۳۰۴، حدیث نمبر: ۲۶۶۳۹۔ طبرانی، ج ۲۳، ص ۳۳۳، ح: ۷۶۸۔ مسند أبی یعلی، ج ۱۲، ص ۴۵۱، حدیث نمبر: ۷۰۲۱۔ ترمذی نے اسے حسن کہا اور اس باب میں سب روایات سے عمدہ یہی روایت ہے اور حافظ ابن حجر نے تہذیب التہذیب، ج ۲، ص: ۲۹۷ میں کہا: اس کی متعدد اسناد ہیں اور البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح سنن ترمذی، ح: ۳۸۷۱ میں صحیح لغیرہ کہا۔ حاکم نے اسے ایک اور سند کے ساتھ روایت کیا، ج ۳، ص: ۱۵۸ اور بیہقی نے ج ۲، ص: ۱۵۰، حدیث نمبر: ۲۹۷۵ اور بغوی رحمہ اللہ نے شرح السنۃ، ج ۷، ص: ۲۰۴ میں کچھ الفاظ کے اختلاف کے ساتھ روایت کیا۔ اس کی سند کو حاکم نے صحیح کہا۔ جیسا کہ سنن کبری للبیہقی، ج ۲، ص: ۱۵۰۔ پر ہے۔ اور بغوی نے کہا: اس کے راوی ثقات ہیں ۔ اور ذہبی رحمہ اللہ نے ’’المہذب، ج ۲، ص: ۵۹۷ میں کہا اس کی سند صالح ہے اور اس میں کچھ منکر بھی ہے اور شوکانی نے فتح القدیر، ج ۴، ص: ۳۹۲ میں کہا اس کے ساتھ تمسک کیا جا سکتا ہے اور اس کی متعدد اسناد ہیں ۔
علامہ مبارک پوری رحمہ اللہ نے کہا: ام سلمہ نے کہا: اے اللہ کے نبی! کیا میں بھی ان کے ساتھ ہوں ؟ یہاں شروع میں صرف استفہام مقدر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم اپنی جگہ پر رہو اور تم بھلائی پر ہو۔‘‘