کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 534
’’اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ تم سے گندگی دور کر دے اے گھر والو! اور تمھیں پاک کر دے ، خوب پاک کرنا۔ ‘‘ اور فرمایا: ﴿ رَحْمَتُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ إِنَّهُ حَمِيدٌ مَجِيدٌ ﴾ (ہود: ۷۳) ’’اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں تم پر اے گھر والو! بے شک وہ بے حد تعریف کیا گیا، بڑی شان والا ہے۔‘‘ ’’ہر نبی کے اہل‘‘ سے مراد اس کی امت اور اس کی ملت والے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ وَكَانَ يَأْمُرُ أَهْلَهُ بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ﴾ (مریم: ۵۵) ’’اور وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتا تھا ۔‘‘ راغب[1] نے کہا اور مناوی[2] نے اس کی متابعت کی۔ اہل الرجل:.... جو لوگ اس کے ساتھ ہوں نسب، دین، پیشہ، گھر یا شہر وغیرہ میں ۔ درحقیقت اہل الرجل:.... جو اس کے ساتھ ایک رہائش گاہ میں رہتے ہوں ، پھر اس معنی کو وسیع کیا گیا۔ یہ بھی ایک رائے ہے۔ جو لوگ نسب وغیرہ کے ساتھ اکٹھے ہوں اور مطلق طور پر اس لفظ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خاندان مراد لیا جاتا ہے۔[3]
[1] حسین بن محمد بن مفضل ابو القاسم اصفہانی۔ الراغب کے نام سے مشہور ہے۔ العلامہ، الماہر، المحقق، الباہر، ذہین و فطین، اہل کلام میں سے تھا، حتیٰ کہ امام غزالی کا ہم پلہ شمار ہوتا ہے۔ اس کی تصنیفات ’’مفردات الفاظ القرآن الکریم‘‘ اور ’’الذریعۃ الی مکارم الشریعۃ‘‘ ہیں ۔ ۵۰۲ ہجری میں فوت ہوا۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی، ج ۱۸، ص: ۱۲۰۔ الاعلام للزرکلی، ج ۲، ص: ۲۵۵۔) [2] عبدالرؤوف بن تاج العارفین بن علی المناوی، الحافظ، الفقیہ شافعی المذہب۔ ۹۵۲ ہجری میں پیدا ہوا۔ تصنیف و تحقیق میں مشغول ہو گیا۔ کھانا کم کھاتا اور رات کو دیر تک بیدار رہتا۔ اس کی تصنیفات میں سے ’’فیض القدیر شرح الجامع الصغیر‘‘ اور ’’شرح شمائل الترمذی‘‘ ہیں ۔ ۱۰۳۱ میں فوت ہوا۔ (الاعلام للزرکلی، ج ۶، ص: ۲۰۴۔ ہدیۃ العارفین لاسماعیل باشا البغدادی، ج ۵، ص: ۵۱۰۔) [3] تاج العروس للزبیدی، ج ۲۸، ص: ۴۱۔ ابن منظور کہتے ہیں : کسی آدمی کے اہل سے مراد وہ لوگ ہوتے ہیں جو اس کے لیے سب سے زیادہ خاص ہوں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت سے مراد آپ کی بیویاں ، آپ کی بیٹیاں ، آپ کے داماد یعنی علی و عثمان رضی ا للہ عنہما ہیں اور ایک رائے یہ بھی ہے وہ مرد اور عورتیں جنھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی وہ آپ کی آل میں سے ہیں ۔ (لسان العرب، ج ۱۱، ص: ۲۹۔)