کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 532
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام بیویاں لفظ ’’آل‘‘ کے عموم میں آ جاتی ہیں ، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بے شک صدقہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آل محمد کے لیے حلال نہیں ۔‘‘ اور اس بات کی دلیل یہ ہے کہ خمس سے ازواج النبی علیہ السلام کا نان و نفقہ نکالا جاتا تھا۔
اسی طرح ابن ابی ملیکہ نے جو روایت کی ہے: بے شک خالد بن سعید نے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف صدقہ کی ایک گائے بھیجی تو انھوں نے یہ کہہ کر لوٹا دی کہ ہم آل محمد ہیں ہمارے لیے صدقہ حلال نہیں ۔[1]
کتنے تعجب کی بات ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان میں آپ کی ازواج کیسے شامل نہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((اَللّٰہُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوْتًا)) [2]
’’اے اللہ! تو آل محمد کو اتنی روزی دے کہ وہ صرف زندہ رہ سکیں ۔‘‘
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قربانی کرتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے:
((اَللّٰہُمَّ ہٰذَا عَنْ مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ۔))[3]
’’اے اللہ یہ محمد اور آل محمد کی طرف سے ہے۔‘‘
اسی طرح سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آل نے کبھی گندم کی روٹی سیر ہو کر نہیں کھائی۔‘‘[4]
اور نمازی کا اپنی نماز میں یہ کہنا:’’ اے اللہ! تو محمد اور آل محمد پر رحمتیں بھیج۔‘‘[5]
یقیناً صدقہ محمد اور آل محمد کے لیے حلال نہیں ۔[6]سیّدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ
[1] مصنف ابن ابی شیبۃ، ج ۳، ص: ۲۱۴۔ تاریخ بغداد للخطیب بغدادی، ج ۸، ص، ۳۸۔
[2] صحیح بخاری، حدیث نمبر: ۶۴۶۰۔ صحیح مسلم، حدیث نمبر: ۱۰۵۵۔
[3] مسند أحمد، ج ۶، ص ۳۹۱، حدیث نمبر: ۲۷۲۳۴۔ مسند بزار، ج ۹، ص ۳۱۸، حدیث نمبر: ۳۸۶۷۔ طبرانی، ج ۱، ص ۳۱۱، حدیث: ۹۲۰۔ الحاکم، ج ۲، ص: ۴۲۵۔ بیہقی، ج ۹، ص ۲۵۹، حدیث نمبر: ۱۹۴۸۲۔ سیّدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ راوی ہیں ۔ امام حاکم نے کہا، اس کی سند صحیح ہے لیکن بخاری و مسلم نے اسے روایت نہیں کیا اور ہیثمی نے مجمع الزوائد، ج ۴، ص: ۲۴ پر اس کی سند کو حسن کہا ہے۔
علامہ البانی رحمہ اللہ نے سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ، حدیث نمبر: ۶۴۶۱ میں کہا ان تمام جملوں کے ساتھ یہ منکر ہے۔
[4] صحیح بخاری، حدیث نمبر: ۵۴۲۳۔ صحیح مسلم، حدیث نمبر: ۲۹۷۰۔
[5] صحیح بخاری، حدیث نمبر: ۳۳۷۰۔ صحیح مسلم، حدیث نمبر: ۴۰۶۔
[6] تاریخ بغداد للخطیب البغدادی، ج ۸، ص: ۳۸۔