کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 516
قریبی فوت ہوا تو کس طرح اس عمل پر ان کا مواخذہ کیا جائے گا، جس سے وہ توبہ کر چکی ہوں ۔
دوسرا نکتہ
ان شبہات کا جائزہ جو اہل بیت رضی ا للہ عنہن کے متعلق ہیں
پہلا شبہ:
اہل تشیع کہتے ہیں کہ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلاف کینہ رکھتی تھیں ۔ روافضہ نے علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بغض کے لیے اس روایت سے استدلال کیا ہے جو سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میمونہ( رضی اللہ عنہا ) کے گھر میں بیمار ہوئے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں سے اجازت طلب کی کہ آپ کی تیمار داری میرے گھر میں کی جائے۔ سب نے آپ کو اجازت دے دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عباس اور ایک اور آدمی رضی ا للہ عنہما کے سہارے وہاں سے روانہ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں پاؤں زمین پر گھسٹ رہے تھے۔
عبیداللہ کہتے ہیں : ابن عباس رضی ا للہ عنہما نے کہا کیا تجھے معلوم ہے دوسرا آدمی کون تھا؟ وہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھے۔ لیکن عائشہ رضی اللہ عنہا اس سے دلی طور پر خوش نہ تھیں ۔[1]
شیعہ کہتے ہیں : وہ علی رضی اللہ عنہ کو پسند نہ کرتی تھیں نہ ان کے لیے کوئی بھلائی چاہتی تھیں اور نہ ہی اپنی زبان پر اس کا نام لیتی تھی۔ [2]
وہ روایت جو عام طور پر مشہور ہے، جس میں یہ زائد کلام نہیں ہے وہ عائشہ رضی اللہ عنہا خود بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سخت بیمار ہو گئے اور آپ کی تکلیف بڑھ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں سے اجازت طلب کی کہ آپ کی عیادت میرے گھر میں ہو۔ سب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اجازت دے دی۔ آپ دو آدمیوں کے درمیان میں پاؤں زمین پر گھسیٹتی ہوئے عباس بن عبدالمطلب اور ایک اور آدمی رضی ا للہ عنہما کے درمیان آ رہے تھے۔
[1] مسند احمد، ج ۶، ص: ۳۴، حدیث نمبر: ۲۴۱۰۷۔ اصل حدیث صحیحین میں ہے۔ (بخاری، حدیث نمبر: ۱۹۸۔ مسلم، حدیث نمبر: ۴۱۸۔) اس اضافے کے بغیر بخاری و مسلم میں ہے۔
[2] درج ذیل کتب شیعہ میں یہ شبہ موجود ہے: معالم المدرستین لمرتضی العسکری، ص: ۲۳۲۔ الغدیر للامینی، ج ۹، ص: ۳۲۴۔ فسألوا اہل الذکر لمحمد التیجانی السماوی، ص: ۳۲۳۔ خلاصۃ المواجہۃ لاحمد حسین یعقوب، ص: ۱۱۱۔ دفاع من وحی الشریعۃ حسین الرجا، ص: ۳۱۷۔